
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ کا حکم دے دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں موجود ایرانی جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے بقول اب تک 159 ایرانی جہاز کو سمندر برد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری قوت کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور اس کے بیشتر بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ایران اور خود امریکی میڈیا اپنی رپورٹس میں یہ انکشاف کر چکا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس سمندری نگرانی اور دفاع کے لیے گن بوٹس اور دیگر بحری اثاثے موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک جانب پاکستان میں دونوں ملکوں کے لیے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں وہیں امریکی افواج کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے رکھے گئے مطالبات میں سب سے بنیادی مطالبہ بھی یہی ہے کہ امریکا اس بحری ناکہ بندی کو ختم کرے، تاہم امریکا نے اسے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے جواب میں سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر جہازوں کو قبضے میں لینا شروع کردیا ہے۔
ایران کی جانب سے حال ہی میں قبضے میں لیے گئے جہازوں میں لائبیریا کا ’ایپامینونڈاس‘ اور پاناما کا ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان جہازوں کو ضروری اجازت نامے نہ ہونے اور نیوی گیشن سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کے الزام پر قبضے میں لیا گیا ہے۔