غزہ میں ایک باپ کی اپنے گمشدہ بیٹے کے لیے جدوجہد: ملبے سے ملنے والے بچے کے دو دعویدار

غزہ میں جاری طویل اسرائیلی جنگ نے جہاں لاکھوں گھر اجاڑ دیے، وہیں کمپیوٹر پروگرامر محمد لباد کی زندگی کو ایک ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس کا حل فی الحال نظر نہیں آ رہا۔ 35 سالہ محمد لباد 13 اکتوبر 2023 کو بیت لاہیا میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد ملبے سے زندہ تو نکال لیے گئے، لیکن اس دن سے ان کا وہ کرب شروع ہوا جو آج تک ختم نہیں ہوا۔

اس حملے میں لباد کی والدہ، بھائی، بھابی، بھتیجا اور ان کی پانچ سالہ بیٹی رانا شہید ہو گئے، جبکہ ان کی حاملہ اہلیہ امل لاپتہ ہو گئیں۔

اسپتال میں زیرِ علاج لباد کو اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ کو کمال عدوان اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے آپریشن کے ذریعے ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ سر اور پیٹ کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے امل 22 اکتوبر کو الشفاء اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

لباد نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کا غم تو منایا، لیکن ان کی تمام تر توجہ اس ننھے بیٹے پر مرکوز ہو گئی جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا کہ وہ زندہ ہے۔

لباد نے قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ ہم جب بھی کسی پیارے کی موت پر تعزیت کے لیے جمع ہوتے، ہمارا ایک ہی سوال ہوتا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟

اس تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ الشفاء اسپتال میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے ایک گروپ میں ان کا بیٹا شامل ہو سکتا ہے، لیکن جنگ کی افراتفری میں میڈیکل ریکارڈ غائب ہو چکا تھا۔

اسی دوران ایک اور خاندان نے بھی اسی بچے پر اپنا دعویٰ کر دیا جس کی تفصیلات لباد کے بچے سے ملتی جلتی تھیں۔

غزہ پولیس کے تحقیقاتی محکمے کے مطابق دو خواتین نے ایک جیسے حالات میں بچوں کو جنم دیا تھا اور اسرائیلی محاصرے کے دوران اسپتال کی بجلی منقطع ہونے سے کئی بچے انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد اب صرف ایک بچہ بچا ہے جس پر دو خاندانوں کا جھگڑا ہے۔

دسمبر 2023 میں جب ان بچوں کو طبی امداد کے لیے مصر منتقل کیا گیا تو لباد انہیں روکنے کے لیے رفح پہنچے، مگر وہ دیر کر چکے تھے۔

دو سال کے طویل انتظار کے بعد جب یہ بچے 31 مارچ 2026 کو واپس غزہ پہنچے تو وہاں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، لیکن لباد کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ تھی۔

ناصر اسپتال میں جب وہ اس بچے کو دیکھنے پہنچے جسے وہ اپنا بیٹا مانتے ہیں، تو دوسرا خاندان بھی وہاں موجود تھا۔

لباد کہتے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ ہی واحد راستہ ہے جو اس معاملے کو حل کر سکتا ہے، میں ہر نتیجے کے لیے تیار ہوں، بس مجھے یقین چاہیے۔

بدقسمتی سے جنگ کی وجہ سے غزہ کی تمام لیبارٹریاں تباہ ہو چکی ہیں اور وہاں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جب تک بین الاقوامی ادارے ان نمونوں کو مصر یا اردن بھیجنے میں مدد نہیں کرتے، یہ معاملہ لٹکا رہے گا۔

لباد جو اب اپنی واحد بچی جانا کے ساتھ رہتے ہیں، ذہنی طور پر بکھر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری پوری زندگی رک گئی ہے، میں نہ کام کر سکتا ہوں نہ نارمل رہ سکتا ہوں۔

لباد اب انصاف کے لیے الشفاء اسپتال کے باہر احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں اپنے بیٹے کی حقیقت معلوم ہو سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles