
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے 5 بڑوں کو اعتماد سازی کے لیے مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، ان 5 بڑوں میں صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، بانی پی ٹی آئی عمران خان شامل ہیں، اس تجویز میں پیپلزپارٹی بھی ہمارے ساتھ ہے، پی ٹی آئی اداروں کی قیادت کی کردار کشی بند کرے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا راستہ نکل سکتا ہے۔
جمعرات کو جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ان کو بند کیا جانا چاہیے، پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول اور تعلق نہیں۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو ان اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی اختیار کرکے بند کرنا چاہیئے، اگر ان اکاؤنٹس سے صرف پروپیگنڈا ہی کرنا ہے تو مخالف سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں کے خلاف کریں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 8 فروری کو انہوں نے احتجاج کی جو کال دی ہے اس پر عمل درآمد نہیں کرسکیں گے، پہیہ جام کی کال واپس لیں ورنہ 9 مئی کی طرح دھر لیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی ہونی چاہیے ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، عمران خان اور ایک وہ ہیں جنہیں سب جانتے ہیں، تجویز میں پیپلزپارٹی بھی ہمارے ساتھ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان پانچوں میں سے ایک مسلسل گالیاں دے رہا ہے، باقی کسی لیڈر نے ان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال نہیں کیے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، سیاستدانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف غیراخلاقی بات نہیں کرنی چاہیے، شہدا کے خلاف پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں ٹرولنگ ہورہی ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی حق کی طرف نہیں ملک میں انارکی کی طرف سفر کررہی ہے، اگر یہی کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہے، اگر ان کا خیال ہے کہ ادارے کے خلاف مہم جوئی کرنے سے کوئی دباؤ آئے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ن لیگ مستقبل میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اگلی قیادت بلاشبہ مریم نواز شریف کی ہوگی، اسی طرح پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو ہے۔