
بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکورٹی فورسز نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد وں کو ہلاک کردیا تو دوسری طرف خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 27 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلہ ہوا اور کارروائی کے دوران 4 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا، ہلاک ہونے والے دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ مزید بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اورسرچ آپریشن جاری ہے، وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے قومی ایکشن پلان کے تحت شروع کیے گئے وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت سیکیورٹی فورسزاورقانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھیں گے۔
کرک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع کرک کے سرحدی پہاڑی سلسلے تھانہ خرم کی حدود کرکنڈوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے بھرپور آپریشن کیا گیا۔
رجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کوہاٹ عباس مجید مروت کے مطابق آپریشن کے دوران پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک 8 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آر پی او کوہاٹ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جب کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن میں بھاری پولیس نفری کے ساتھ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شریک ہیں جب کہ ڈی پی او کرک سعود خان خود موقع پر موجود ہیں اور کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عباس مجید مروت کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں پہاڑی علاقے میں پڑی ہوئی ہیں، لاشوں کو ان کے ساتھی دہشت گرد ساتھ لے جانے کے لیے پولیس پر فائرنگ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
آر پی او نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسزکے ساتھ تعاون کریں اورافواہوں پرکان نہ دھریں جب کہ صورت حال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
رجنل پولیس آفیسر کوہاٹ کا کہنا ہے کہ ڈی پی او کرک سعود خان بھاری پولیس نفری اور خفیہ اداروں کے ساتھ موقع پر موجود ہیں، پولیس اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کرک میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر پولیس اور سی ٹی ڈی کی ستائش کی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کے سپوتوں نے دہشت گردوں کےعزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی جرات اور پروفیشنل ازم پر فخر ہے۔