
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کو 9 مئی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد کر لیا گیا ہے۔
لاہور میں اے ٹی سی لاہور کے ایڈمن جج منظر علی گل کی عدالت میں پولیس نے ملزم شیر شاہ کو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا اور اس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شیر شاہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم موقع پر موجود تھا اور ویڈیو شواہد کے ذریعے اس کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزم کا فوٹوگرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کی درخواست کی۔
ملزم کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں اعتراض کیا کہ انہیں 27 ماہ بعد شیر شاہ کی گرفتاری یاد آئی۔ وکیل نے مزید کہا کہ عدالتوں نے پہلے بھی گرفتاری میں تاخیر پر ملزمان کو ڈسچارج کیا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پورا شہر گرفتار ہو جائے گا۔
دوسری جانب 9 مئی کے سانحہ میں ملوث مفرور ملزمان، علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ خان اور شاہریز خان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، دونوں ملزمان جناح ہاؤس پر حملے اور ملک بھر میں ہونے والی شورش میں ملوث تھے، اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
شیر شاہ خان، جو کہ کئی ماہ تک روپوش رہا، آخرکار 22 اگست 2025 کو پولیس کے ہاتھوں پاکستان واپس آتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ شیر شاہ لندن فرار ہو گیا تھا اور وہاں سے ریاست کے خلاف ڈیجیٹل پروپیگنڈا کرتا رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر شاہ 9 مئی کو سزا یافتہ مجرم حسان نیازی کے ساتھ موجود تھا اور حملے کے وقت کی ویڈیو اور جیو فینسنگ کی مدد سے اس کی ملوثیت ثابت ہو چکی ہے۔ شیر شاہ پر 9 مئی کے حملے میں ایف آئی آر پہلے ہی درج ہو چکی تھی اور اس کی وقوعہ پر موجودگی کے شواہد مل چکے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق شیر شاہ کے پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شاہریز خان کا نام ستمبر 2023 کی ضمنی رپورٹ میں شامل تھا۔ شاہریز کو 21 اگست 2025 کو گرفتاری کے بعد 22 اگست 2025 کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم شاہریز پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس اہلکاروں پر حملے اور پولیس وینز کو نذرِ آتش کرنے کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق شاہریز کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا گیا ہے۔
شیر شاہ اور شاہریز کی گرفتاری پر ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں نے پاکستان کے خلاف ڈیجیٹل میڈیا سیل بھی چلایا تھا، جس کے ذریعے ریاست کے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا تھا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویڈیو اور جیو فینسنگ کی مدد سے شواہد جمع کیے گئے ہیں، جس سے ان کی ملوثیت ثابت ہو رہی ہے۔ سانحہ 9 مئی کو غداری قرار دیا جا رہا ہے، اور ان مجرموں کو انصاف کے تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں بھائی کارکنوں کو چھوڑ کر ایک عرصے سے روپوش تھے، اور اب ان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔