شام کے دارالحکومت دمشق کے کیفے میں دھماکا، 5 افراد ہلاک، 16 زخمی

شام کے دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے الحجازیہ میں واقع ایک مصروف کیفے میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے جب کہ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعرات کو دھماکا دمشق کے مرکزی علاقے میں واقع محلِ انصاف (پیلس آف جسٹس) کے قریب ایک کیفے میں ہوا، جو مرکزی عدالت کے مرکزی دروازے سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں عدالت کے ملازمین، مقدمات کے سلسلے میں آنے والے شہری اور دیگر افراد بڑی تعداد میں بیٹھتے ہیں، یہ کیفے دمشق کے وسطی علاقے کے معروف کیفوں میں شمار ہوتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ دھماکے میں کم از کم 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جائے وقوعہ سے 15 متاثرین کو المجتہد اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 5 جاں بحق افراد اور 10 زخمی شامل ہیں جب کہ ایک زخمی کو شامی ریڈ کریسنٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص کیفے میں داخل ہوا، اس نے ایک میز کے نیچے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈی) نصب کیا اور وہاں سے نکل گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شبہ ہے حملہ آور کا اگلا ہدف قریبی مرکزی عدالت ہو سکتا تھا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آور کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔

دھماکے کے بعد پولیس، فوجی انٹیلی جنس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کا مکمل گھیراؤ کر لیا جب کہ بم ڈسپوزل اور سرچ ٹیموں نے تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے مزید ممکنہ دھماکا خیز مواد کی تلاش شروع کر دی۔

شام کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ الحجازیہ کے علاقے میں ایک کیفے کے اندر دھماکا خیز مواد پھٹنے کے واقعے کے بعد متعلقہ یونٹس نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ وزارت کے مطابق شہریوں کے تحفظ اور جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

تاحال کسی فرد یا گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جب کہ حکام واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ رواں سال مئی کے بعد دمشق میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا دھماکا ہے۔ اس سے قبل مئی میں وزارت دفاع کی ایک عمارت کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں ایک شامی فوجی ہلاک جب کہ کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔

سابق صدر بشار الاسد کی 2024 کے اواخر میں حکومت کے خاتمے اور موجودہ صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی دمشق میں وقفے وقفے سے ایسے حملے دیکھنے میں آئے ہیں حالاں کہ اس تبدیلی کے بعد 14 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔

دریں اثنا دمشق کے گورنر ماہر مروان نے کہا ہے کہ کیفے میں دھماکے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے چند گھنٹوں میں واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آجائیں گے اور جن لوگوں نے شامی شہریوں کا خون بہایا ہے انہیں اپنے کیے کی سزا ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام کی سلامتی کے لیے سیکیورٹی اقدامات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، وزارت داخلہ کی کارکردگی میں روز بروز بہتری آ رہی ہے اور اگرچہ ملک کو مکمل استحکام حاصل کرنے میں کچھ وقت لگے گا تاہم ریاست ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی، جو شام کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles