
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور پارلیمانی بورڈ کی جانب سے امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق کی گئی تمام سفارشات بھی فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔
جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حالات معمول پر آنے تک انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اصولی اظہارِ یکجہتی ہے۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ آزاد جموں و کشمیر اس وقت شدید سیاسی اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ راولاکوٹ میں عوام اپنے جائز مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں جب کہ طاقت کے استعمال سے قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ کشمیری عوام کے مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے، آزاد جموں و کشمیر کی آئینی شناخت کو مجروح کیا جا رہا ہے، کشمیری عوام کی نمائندہ آوازوں کو دبایا جا رہا ہے، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں اور گرفتاریاں کی جا رہی ہیں جب کہ اظہارِ رائے کی آزادی محدود اور میڈیا پر قدغنیں عائد ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق ایسے ماحول میں انتخابی عمل اپنی ساکھ اور معنویت کھو دیتا ہے، اس لیے پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جائیں، اس کے مطالبات کا منصفانہ حل نکالا جائے، انتخابی شیڈول پر نظرثانی کی جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن انتخابی ماحول فراہم کیا جائے۔
پارٹی نے واضح کیا کہ آزاد، منصفانہ اور پُرامن سیاسی ماحول کے بغیر انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جب کہ کشمیری عوام کے جمہوری حقوق کے لیے اس کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔
پاکستان تحریک انصاف نے یہ بھی اعلان کیا کہ پارلیمانی بورڈ کی جانب سے امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق کی گئی تمام سفارشات فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق موجودہ حالات کے باعث ٹکٹوں کے اجرا یا انتخابی عمل سے متعلق کسی بھی مرحلے پر مزید پیش رفت نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے تمام امور سیاسی ماحول کی بحالی اور پارٹی کے آئندہ فیصلے تک مؤخر رہیں گے۔