
وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیاحتی مقامات پر سفر اور آمد و رفت کے حوالے سے اہم ایڈوائزری جاری کر دی۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں سفر کو محدود رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رہا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دفعہ 144 کے تحت سیاحتی پابندیاں نافذ کی جا سکتی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں اور موسمی حالات کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
واضح رہے کہ یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب خیبرپختونخوا اور بالائی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے، سیکڑوں گھر تباہ اور 300 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان ضلع بنیر میں ہوا جہاں صرف دو روز کے دوران 184 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ شانگلہ، سوات اور باجوڑ سمیت دیگر اضلاع میں بھی کئی خاندان لقمۂ اجل بنے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ حکام نے بونیر، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 21 اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے باعث متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سیاحتی سرگرمیاں نہ صرف خطرناک بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے عوام حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔