ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے غیر ملکی شخصیات اور وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی میڈیا نے 3 جون کو تہران میں والی تعزیتی تقریب میں تقریباً 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے وفود اور شخصیات کی آمد کا عندیہ دیا تھا۔ تقریب میں سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے وفود کی شرکت کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں اہم سفارتی اشارہ مانا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے گرینڈ امام خمینی مصلًیٰ میں جمعے کو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کے وفود، سربراہانِ مملکت اور اعلیٰ حکام تہران پہنچے ہیں۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی تدفین مارچ میں ہی کی جانی تھی تاہم جنگ کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔
تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے مرکزی ہال میں ایک قطار میں پانچ تابوت رکھے گئے ہیں۔ یہ تابوت سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ان قریبی افراد کے ہیں جو حملے میں ان کے ہمراہ شہید ہوئے تھے۔

ان شہداء میں علی خامنہ کی سب سے بڑی بیٹی، ان کے داماد، موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی زوجہ شامل ہیں جب کہ ہال میں ایک چھوٹا سا تابوت بھی موجود ہے جس میں علی خامنہ ای کی 14 ماہ کی معصوم پوتی کا جسدِ خاکی موجود ہے۔
اس تابوت کے ساتھ ننھی زہرا محمدی کی تصویر بھی رکھی دیکھی جاسکتی ہے، اس منظر نے تقریب میں شریک افراد اور سوشل میڈیا صارفین کو شدید جذباتی کردیا ہے۔
تہران کے گرینڈ مصلیٰ امام خمینی میں 3 جولائی کو منعقد ہونے والی تقریب خصوصی طور پر دنیا بھر سے آئے ہوئے سربراہانِ مملکت، غیر ملکی وفود اور ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے لیے رکھی گئی ہے۔ جس کا مقصد ان رہنماؤں کو شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کا دیدار اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دینا ہے۔
مصلیٰ کے اندر اور اطراف کے علاقوں میں عام پبلک کا داخلہ فی الحال بند ہے۔ صرف مخصوص پرمٹ رکھنے والے افراد اور غیر ملکی سفارت کاروں کو ہی اندر جانے کی اجازت ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان، باقر قالیباف اور عباس عراقچی سمیت اعلیٰ سول اور فوجی حکام آنے والے تمام غیر ملکی وفود کے استقبال کے لیے موجود ہیں۔ مصلیٰ کمپلیکس کے اندر اور بیرونی دیواروں پر آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اور بیانات پر مشتمل دیوہیکل بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔
جمعے کے روز تقریب میں پاکستان، چین، روس، سعودی عرب، قطر، بھارت، ترکیہ، افغانستان، عراق، بوسنیا، ہنگری، بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی۔
تقریب میں سرکاری حکام کے علاوہ بھی کئی ممالک کے علماء اور دیگر شخصیات، مختلف تنظیموں کے ارکان اور وفود بھی ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے اور ایرانی قیادت سے تعزیت اور آخری رسومات میں شرکت کی۔
پاکستان سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد نے اس تقریب میں شرکت کی۔ وفد میں ایاز صادق، اسحاق ڈار، بلاول بھٹو، محسن نقوی، مراد علی شاہ، قادر پٹیل سمیت سرکاری حکام شامل تھے۔
وفد نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمںٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور خصوصی تعزیت کی۔
پاکستان کے ممتاز شیعہ علماء کا ایک وفد بھی اس تقریب میں شرکت کے لیے تہران پہنچا ہے جس میں علامہ ساجد نقوی، علامہ جواد نقوی، راجہ ناصر عباس، علامہ شبیر حسن میثمی اور دیگر علماء شامل تھے۔
اس کے علاوہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں بھی ایک وفد تہران پہنچا تھا۔ جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممبر ممالک میں سے چار اہم ممالک، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عمان نے کشیدگی کے باوجود اپنے وفود تہران بھیجے جب کہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے ایران میں تعینات سفیروں اور دیگر نمایاں شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
چین کی جانب سے نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کی قیادت میں وفد اس تقریب میں شریک ہوا۔
روس کی نمائندگی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ترین ساتھی اور سابق صدر و وزیراعظم دمتری میدویدیف نے کی۔ روسی علماء کونسل کا ایک وفد بھی اس تقریب میں شریک ہوا اور تعزیتی پیغام پہنچایا۔
افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امیر خان متقی کابل میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا بیگدلی کے ہمراہ خصوصی پرواز سے تہران پہنچے۔
کابل کی سابقہ حکومت کے اہم رہنما اور طالبان مخالف گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی اس تقریب میں ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے۔ احمد مسعود طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے پہلے روز لبنان، عراق اور یمن میں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے اعلیٰ ترین کمانڈرز اور وفود شریک ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور فلسطین اسلامک جہاد کے نمائندے بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھارت کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا اعلیٰ سطح وفد بھی تہران پہنچا ہے۔
بھارتی وفد میں ریاست بہار کے موجودہ گورنر، سابق فوجی افسر اور ملک کی اعلیٰ ترین پبلک آفس ہولڈر شیعہ شخصیت سید عطا حسنین شامل ہیں، جنہیں بھارتی حکومت نے خصوصی طور پر اس وفد کے ہمراہ بھیجا ہے۔
ان کے علاوہ کانگریس رہنما سلمان خورشید اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی بھی موجود ہیں۔ بھارتی وفد میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نامور مذہبی رہنما اور دانشور بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام نے ان تقریبات میں 100 سے زائد ممالک کے وفود اور شخصیات کی جانب سے شرکت کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اسرائیل اور امریکا کے اتحادی سمجھے جانے والے یورپی اور مغربی ملک کو اس تقریب کا دعوت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 4 جولائی کی صبح 6 بجے سے گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے، جہاں لاکھوں سوگواروں کی آمد متوقع ہے۔ پیر کو دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر جنازے کے ہمراہ سرکاری جلوس نکالا جائے گا۔