
بھارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکی برانڈز کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ میکڈونلڈز، کوکا کولا، ایمازون، ایپل، اور دیگر معروف امریکی کمپنیوں کے خلاف سوشل میڈیا اور گلی محلوں میں بائیکاٹ کی مہم شروع کردی گئی۔
بھارتی صنعتکاروں اور وزیراعظم نریندر مودی کے حامیوں نے اس موقع کو ”خود انحصاری“ کے نعرے سے جوڑتے ہوئے مقامی مصنوعات کو اپنانے کی اپیل کی ہے۔
اتوار کے روز وزیراعظم مودی نے بنگلور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خود کفالت پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کے آئی ٹی ماہرین دنیا کے لیے ٹیکنالوجی بناتے ہیں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ملک کی ضروریات کو ترجیح دیں۔
واو اسکِن سائنس کے بانی منیش چوہدری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی مصنوعات کو دنیا بھر میں مقبول کرے۔
اسی دوران ڈرائیو یو کے سی ای او راہول شاستری نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بھی اپنا ٹوئٹر، یوٹیوب اور فیس بک بنانے کی ضرورت ہے۔
ادھر بی جے پی سے منسلک تنظیم ’سودیشی جاگرن منچ‘ نے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالیں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ امریکی مصنوعات کا استعمال ترک کردیں۔ تنظیم کے رہنما اشونی مہاجن کے مطابق ”یہ قوم پرستی اور حب الوطنی کا معاملہ ہے۔“
تاہم بھارت کے تاجروں اور صنعکاروں کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے، اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں میکڈونلڈز کے ایک صارف راجت گپتا نے کہا، ’’ٹیرف سفارتی مسئلہ ہے، میرے ”میک پف“ یا کافی کو اس میں نہ گھسیٹا جائے۔‘‘
حیران کن بات یہ ہے کہ اسی دوران امریکی الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا نے نئی دہلی میں اپنا دوسرا شوروم کھول لیا، جس میں بھارتی وزارتِ تجارت اور امریکی سفارت خانے کے حکام بھی شریک ہوئے۔
یہ تمام حالات بھارت اور امریکا کے معاشی تعلقات میں ایک نئے موڑ کی نشان دہی کر رہے ہیں، جہاں تجارتی فیصلوں کا اثر صارفین اور عوامی جذبات پر براہ راست پڑ رہا ہے۔