
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، جب کہ تہران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی افواج، معیشت اور نئے مالیاتی پروگرام ٹرمپ اکاؤنٹس کو بھی اپنی حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا۔
واشنگٹن میں اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کو عسکری لحاظ سے شکست دی ہے اور دنیا کو ایک بار پھر امریکا کی فوجی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مسلح افواج دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ چار برس کے اندر امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھوئے گی اور اب اس کے آثار نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ مارکیٹ مزید تیزی سے اوپر جائے گی۔
تقریب کے دوران امریکی صدر نے ٹرمپ اکاؤنٹس پروگرام کا باضابطہ آغاز بھی کیا، جس کا مقصد نومولود بچوں کو ابتدائی مالی بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں سرمایہ کاری اور بچت کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کر سکیں۔
اس موقع پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ اس پروگرام میں اب تک 60 لاکھ بچوں کا اندراج ہو چکا ہے، جن میں 86 فی صد ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی سالانہ آمدنی دو لاکھ ڈالر سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 لاکھ بچوں کے اکاؤنٹس میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک ہزار ڈالر کی ابتدائی رقم بھی جمع کرائی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ ان اکاؤنٹس میں موجود سرمایہ جلد نکالنے کے بجائے طویل مدت تک برقرار رکھیں تاکہ بچوں کو 18 سال کی عمر تک نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ یہ مفت سرمایہ کاری بچت اکاؤنٹس بچوں کو کم عمری میں ہی مضبوط مالی بنیاد فراہم کریں گے۔ ان کے بقول، جس بچے کے پاس آج کوئی سرمایہ نہیں، وہ کم عمری میں ہی لاکھوں ڈالر کا مالک بن سکتا ہے اور ان اکاؤنٹس کی مالیت ایسے اعداد تک پہنچ سکتی ہے جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔
اس موقع پر ٹرمپ نے اوول آفس سے نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور نیسڈیک کی افتتاحی گھنٹی بجا کر ایک منفرد روایت بھی قائم کی، جسے ان کے حامیوں نے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔
اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران اس وقت دل چسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے سے متعلق مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ ان کے ریمارکس پر تقریب میں موجود شرکا قہقہوں سے گونج اٹھے۔
ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کریں تو انہیں سینیٹ میں 100 فی صد ووٹ مل جائیں گے، کیونکہ تمام قانون ساز انہیں کسی نہ کسی طرح سینیٹ سے باہر بھیجنا چاہیں گے۔ ان کے اس طنزیہ جملے پر تقریب میں موجود شرکا بھی ہنس پڑے۔