
پیپلزپارٹی کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے بھی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔
ترجمان جلیل جان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جے یو آئی خیبرپختونخوا حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک نہیں ہوگی۔
صدر پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا سید محمد علی شاہ باچا نے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کل جماعتی کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کل ہونے والی اے پی سی میں شرکت نہیں کرے گی۔
محمد علی شاہ باچا کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کا رویہ انتہائی غیرسنجیدہ ہے، صوبائی حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس صرف دکھاوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل پر متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے صوبائی حکومت سنجیدہ ہوتی تو سیکورٹی مسائل حل ہو چکے ہوتے، خیبرپختونخوا حکومت کی ماضی کی بات چیت نتیجہ خیز نہیں رہی۔
صدر پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت احتجاج سے فارغ ہو تو عوامی مسائل پر توجہ دے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت پر مشاورت جاری ہے، ترجمان اے این پی کا کہنا ہے کہ آج ہی دعوت نامہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ موصول ہوا، رہنماؤں کی آپس میں مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت بارے فیصلہ کیا جائے گا۔
کل تمام سیاسی جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس بلائی ہے، علی امین گنڈا پور
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ کل تمام سیاسی جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس بلائی ہے ، جو لوگ شرکت نہیں کریں گے ان کو صوبے کی پروا نہیں۔
علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ عوام کی تعاون کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا، اے پی سی پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔
جنوبی اضلاع میں جاری ڈرون حملوں کے حوالے سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ ڈراون حملے جس طرف سے بھی ہو قابل قبول نہیں، سینٹ انتخابات کی لسٹ بیرسٹر سیف اور ظہیر ایڈوکیٹ کو بانی پی ٹی آئی نے دی تھی، عرفان سلیم کا نام بانی پی ٹی آئی نے لسٹ سے نکالا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی، جو لوگ کہتے ہیں کہ خان کا بیانیہ صحیح نہیں فرق نہیں آتا، بعض لوگ بانی کی بانیہ کو غلط بیان کرتے ہیں، بانی نے کہا تھا پارٹی میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کو نکالوں گا۔