
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے زیر قبضہ علاقوں اور لبنان سے اسرائیلی فوج کے جلد انخلا پر غور کریں۔ اس وقت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بعض علاقوں میں موجود ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ شام میں موجود اسرائیلی فوج میں کمی کرنا شروع کریں اور لبنان سے فوجی انخلا کے لیے بھی اقدامات تیز کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں عام انتخابات قریب ہیں جنہیں نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو پر اس وقت شدید دباؤ ہے اور ایسے حالات میں شام کے زیر قبضہ علاقوں سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ ان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹیلی فونک رابطہ صدر ٹرمپ اور شام کے صدر احمد الشرع کے درمیان ترکیہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے ایک دن بعد ہوا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بعض حصوں میں موجود ہے۔ اسرائیل ان مقبوضہ علاقوں کو ’سیکیورٹی زون‘ کا نام دے کر سرحدی علاقوں سے ممکنہ حملوں سے بچاؤ کا جواز پیش کرتا آیا ہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون پر واضح کیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے اور اس سے صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا ’وہ آپ کی وہاں موجودگی نہیں چاہتے لہٰذا آپ کو اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں‘۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہی بات لبنان کے حوالے سے بھی لاگو ہوتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران اسرائیل کی سرحدوں کے قریب سیکیورٹی زونز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ماہ سے اسرائیل اور شام کے درمیان ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کے لیے کوشش کر رہی تھی، جس میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے زیرِ قبضہ شام کے علاقوں سے مرحلہ وار فوجی انخلا بھی شامل تھا۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق بعد میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نیتن یاہو مطلوبہ رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں جنوبی شام میں ایسے کئی واقعات بھی پیش آئے جہاں مقامی شہریوں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کے خلاف احتجاج کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپوں کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
لبنان کے حوالے سے بھی اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ منگل کو امریکی ثالثوں نے روم میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقات کی تھی، جس میں چند ہفتے قبل طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے جنوبی لبنان میں موجود دو مخصوص علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے اور وہاں لبنانی فوج کی تعیناتی کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسرائیلی فوج نے تاحال ان علاقوں سے انخلا نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لبنانی حکومت چاہتی ہے کہ انخلا کا عمل فوری شروع ہو اور مزید واپسی کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فوج پہلے یہ تصدیق کرنا چاہتی ہے کہ ان علاقوں میں حزب اللہ کے ہتھیار یا فوجی تنصیبات موجود نہیں ہیں، جبکہ لبنان کا مؤقف ہے کہ یہ جائزہ امریکی فوج کو لینا چاہیے۔
ایگزیوس کے ماطبق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس رپورٹ کو مسترد بھی نہیں کیا۔