امریکا کے ایران کے دو اہم جزائر قیشم اور کیش پر حملے

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران خلیج فارس میں واقع ایران کے دو اہم جزائر، قشم اور کیش، بھی حملوں کی زد میں آ گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے پر متعدد دھماکے ہوئے، جبکہ جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ کو بھی امریکی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع قشم جزیرے پر منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً سات بجے ایک مقام کو امریکی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ صوبہ ہرمزگان کے گورنر آفس نے دعویٰ کیا کہ حملہ امریکا کی جانب سے کیا گیا، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے بھی اطلاع دی تھی کہ شام تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر قشم جزیرے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق جزیرے کے ماسان علاقے کو گزشتہ چند روز کے دوران کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس میں واقع جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ کو بھی امریکی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ جزیرہ کیش واٹر اینڈ پاور انجینئرنگ کمپنی کے مطابق حملے کے دوران ایک گولہ پاور پلانٹ کے قریب آ کر گرا، جس سے بجلی کی تنصیبات متاثر ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کے باعث بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس کو مرمت کے لیے عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

قبل ازیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پیر کی شب ایران میں مختلف اہداف پر حملوں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی پر حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم قشم جزیرے یا جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ پر حملوں سے متعلق امریکی فوج نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جب کہ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بھی اس معاملے پر تبصرے کے لیے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم منگل کو وہ اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ دوسری جانب ایران بھی خطے میں مختلف اہداف پر جوابی حملوں کے دعوے کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آئے، جن میں ایک جہاز کے عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا، جب کہ بحران سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے ایم ٹی آئی نیٹ ورک نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ناروے کے ایک آئل ٹینکر میں بھی دھماکا ہوا۔

قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جب کہ جزیرہ کیش اگرچہ سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم وہاں ایرانی بحریہ، ریڈار نظام اور فضائی تنصیبات بھی موجود ہیں، جو ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کی معاونت کرتی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ان دونوں جزائر کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیج فارس میں عسکری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles