فتنہ الہندوستان نے خضدار میں دہشتگردی اور بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا، ترجمان پاک فوج


وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے، دہشت گردوں نے اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا، یہ دہشت گرد حملہ اسکول بس پر نہیں ہماری اقدار پر تھا، دہشت گردوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا نے بتایا کہ خضدار میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، دہشت گردوں نے اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا، یہ دہشت گرد حملہ اسکول بس پر نہیں، ہماری اقدار اور تعلیم پر تھا۔
سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہیں، جو ہارڈ ٹارگٹ میں ناکامی کے بعد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہا ہے، دہشت گردوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، بلوچستان سمیت ملک بھرمیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، قیام پاکستان کے بعد سے بھارت وطن عزیز کے خلاف سرگرم ہے، بھارت 20 سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، مکتی باہنی اور سقوط ڈھاکا اس کی واضح مثال ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے، فتنہ الہندوستان نے خضدار میں دہشت گردی کا اعتراف کیا، گرفتار دہشت گردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا، کلبھوشن یادیو نے اعترافی بیان میں حقائق بیان کیے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ کئی بچے اسپتال میں زیرعلاج ہیں، 2009 اور 2016 میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے،
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے جو عسکری منصوبے اپنائے گئے ہیں وہ کئی دہائیوں تک زیر مطالعہ رہیں گے، بھارت سندھ طاس معاہدہ جاری نہیں رکھتا تو کشمیر کی آزادی پر تمام 6 دریا پاکستان کے ہوں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles