بھارتی اکاؤنٹ سے ایرانی نیوکلیئر ہتھیار کا دعویٰ نیتن یاہو اور امریکا کے غصے کا باعث کیسے بنا؟

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب صرف فضائی کارروائیوں یا سمندری راہداریوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا اور جعلی خبروں کی جنگ میں بدل چکی ہے، جہاں ایک جھوٹی پوسٹ نے چند گھنٹوں کے اندر اسرائیل اور امریکا کے اعلیٰ ترین سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی ایکس اکاؤنٹ سے شروع ہونے والے ایک غیر تصدیق شدہ اور من گھڑت بیان نے عالمی سطح پر جاری سفارتی اور سیکیورٹی بیانیے کو شدید متاثر کیا ہے۔

اس واقعے کی شروعات پانچ اگست کی صبح کو ہوئی جب بھارت سے چلائے جانے والے ایک گمنام ایکس اکاؤنٹ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی اور ایٹمی دھماکے کے مصنوعی بادلوں پر مشتمل تصاویر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ ”ایرانی کمانڈر نے امریکا اور اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی تک ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا ہے“۔

رپورٹ کے مطابق، اس من گھڑت دعوے اور نام نہاد بیان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت تھا کہ ایرانی کمانڈر نے ایسا کوئی بیان دیا ہے۔

تاہم، اس جعلی پوسٹ نے حیرت انگیز تیز رفتاری سے اپنا سفر طے کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ پچہتر ہزار فالوورز والے بھارتی اکاؤنٹ کی اس پوسٹ کو دو گھنٹے کے اندر ہی بیاسی ہزار فالوورز والے ایک اور بھارتی اکاؤنٹ نے ہندی میں ترجمہ کر کے شیئر کیا۔ اس کے بعد اس خبر کو ایک اسرائیلی ایکس اکاؤنٹ ’موساد کمنٹری‘ نے مزید آگے بڑھایا اور دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کے بجائے وقت ضائع کر رہا ہے۔

جلد ہی اسرائیل کے نجی نیوز چینل نے اسے انگریزی میں نشر کرتے ہوئے ایران کا پہلا کھلم کھلا اعتراف قرار دے دیا۔

اس کے چند ہی گھنٹوں کے اندر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے اسے شیئر کیا اور اسی شام وزیراعظم نیتن یاہو نے بیت المقدس میں واقع ماؤنٹ ہرزل کے قومی قبرستان میں تقریر کرتے ہوئے اس جعلی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایران کے ایٹمی عزائم کا ثبوت بنا کر پیش کر دیا۔

یہ افواہ صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ واشنگٹن تک جا پہنچی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایران بالآخر اس بات کا اعتراف کر رہا ہے جو سالوں سے بالکل واضح تھی۔

اس کے علاوہ فلوریڈا کے سینیٹر ریک اسکاٹ اور فاکس نیوز نے بھی اس خبر کو نشر کیا۔

دوسری جانب، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس وائرل پوسٹ کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جھوٹ کے سیلاب کی ایک اور مثال قرار دیا۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس طرح کے جعلی بیانات کو پچھلی دو دہائیوں سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

جب اس بیان اور پوسٹ کی حقیقت پر سوالات اٹھنے لگے اور نیویارک ٹائمز نے اس کے اصل ماخذ کو بے نقاب کیا تو امریکی سفیر مائیک والٹز نے بغیر کسی وضاحت کے خاموشی سے اپنی پوسٹ ایکس سے حذف کر دی۔

اگرچہ ایران کا ایٹمی پروگرام پچھلی تین دہائیوں سے عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے اور تہران مسلسل یہ موقف برقرار رکھے ہوئے ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے، لیکن اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کس طرح ایک گمنام اکاؤنٹ کا تیار کردہ جھوٹ چند گھنٹوں میں زبانوں اور سرحدوں کی حدیں پار کرتے ہوئے اعلیٰ ترین عالمی رہنماؤں کی تقاریر اور فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles