پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں، یہ رب کا عظیم تحفہ ہے، وزیراعظم


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں، یہ رب کا عظیم تحفہ ہے، پاک افواج تحفظ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، پاکستان کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے، علمائے کرام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔
وفاقی دارالحکومت میں پاکستان رب ذوالجلال کا احسان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عظیم قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا، اللہ نے ہمیں پاکستان رمضان المبارک میں تحفے میں دیا، پاکستان ایک تاریخی جدو جہد کے نیتجے میں وجود میں آیا، پاکستان اللہ رب العزت کی طرف سے عظیم تحفہ ہے، پاکستان کا قیام کسی بھی معجزے سے کم نہیں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج 77 سال بعد ہم اس بابرکت مہینے میں یہاں جمع ہیں اور میں سمجھتا ہوں اس کا تقاضا یہ ہے اور پوری قوم پکار پکار کر تقاضا کررہی ہے کہ آئیں ہم یک جان اور دو قالب ہوجائیں، اور اتحاد اور اتفاق کی برکتوں کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ چاہے وہ چاہے وہ معاشی مسائل ہیں، معاشرتی مسائل ہیں یا دہشت گردی ہے، ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ ڈالے، اس میں سب سے بڑی ذمے داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ علما کرام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں، اتحاد و اتفاق سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، افواج پاکستان تحفظ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہم سب نے متحد ہونا ہے، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیناعظیم قربانیوں کے ساتھ بے وفائی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مذہبی منافرت اور تفریق کا خاتمہ کرنا ہے، کچھ عناصر اپنے مفاد کے لیے تقسیم پیدا کرکے ملکی استحکام کو داؤ پر لگارہے ہیں، وسیع ترمفاد کی خاطر ذاتی انا کو ملکی مفاد کے تابع کرنا ہے، پاکستان واحد اسلامی نظریاتی مملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، قدرت نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے نوازا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مقصد پاکستان کو وسائل سے استفادہ کرنے سے روکنا ہے، بے پناہ وسائل سے ہم اپنے قرض ختم کرسکتے ہیں، ایسےعناصر کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی گوارا نہیں، جانتے ہیں دہشت گردوں کومالی معاونت کہاں سے مل رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles