خون میں لت پت سیف علی خان کو کس نے اسپتال پہنچایا؟
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کے ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہونے کے واقعے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے کے بعد سیف علی خان کے گھر پر کوئی گاڑی اس حال میں موجود نہیں تھی کہ جس میں انہیں اسپتال لے جایا جا سکے۔
خون میں لت پت سیف علی خان کو ان کے سب سے بڑے بیٹے ابراہیم نے وقت ضائع نہ کرتے ہوئے رکشے میں اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا، وہ اور سیف علی خان گھر سے 2 کلومیٹر دور اسپتال پہنچے۔
میڈیا کے مطابق سیف علی خان پر چھری سے حملے کے 6 زخم آئے جس کے بعد ان کی اسپتال میں فوری سرجری کر دی گئی۔
لیلاوتی اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر، ڈاکٹر نیرج اُتّمانی کے مطابق سیف علی خان کی نیورو سرجری ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، اور اب ان کی پلاسٹک سرجری کی جا رہی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ چھ زخموں میں سے دو گہرے ہیں اور ان میں سے ایک ریڑھ کی ہڈی کے قریب ہے۔