ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا: وائٹ ہاؤس

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے اور بدستور غیریقینی صورت حال برقرار ہے جس کے دوران وائٹ ہاؤس سے جاری بیان نے پیشرفت کی جانب اشارہ دیا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اولیویا ویلز نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں اپنی شرائط کو مقدم رکھے گا اور ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس سے امریکی عوام کے مفادات متاثر ہوں۔

امریکی صدارتی دفتر کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری کے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکا اور اسرائیل نے بارہا ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کردے۔ ایران اس عمل کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری ایران اپنے پرانے مؤقف پر قائم ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں میں جوہری مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا۔

بہت ہوگیا، اب ڈیموکریٹس وہی کریں جو ٹرمپ کہتے ہیں، وائٹ ہاؤس

دوسری جانب پیر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ سے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ کیا ایران کی تجویز پر غورکیا جارہا ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ ایران کی تجویز پر غور ہورہا ہے، صدر ٹرمپ نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے بات کریں گے، ہوسکتا ہے کہ ملاقات اس وقت ہورہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ نہیں ہورہی ہو لیکن ٹرمپ اپنی ریڈ لائن بتا چکے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سیکریٹ سروس ایجنٹ کی بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے جان بچی، اس وقت صدر ٹرمپ کا برتاؤ شاندار تھا جو مجھے کبھی نہیں بھول سکتا، اختلاف ہوتا ہے لیکن یہ اختلاف گولی سے حل نہیں ہونا چاہیے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ 11 سال سے صدر ٹرمپ کے خلاف نفرت انگیزی نے اس حال تک پہنچایا، شوٹر اور سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے مؤقف میں کیا فرق ہے، اے بی سی کے صحافی نے خاتون اول کے حوالے سے نازیبا بیان دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹ سروس نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر صدر ٹرمپ اور دیگر کی حفاظت کی، ان ہیروز کی بھی فیملیز اور بچے ہوتے ہیں، بہت ہوگیا، اب ڈیموکریٹس وہی کریں جو ٹرمپ کہتے ہیں، ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے فنڈز جاری کیے جائیں، ڈیموکریٹ ٹرمپ کا ہٹلر سے موازنہ کرتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles