پاکستانی فلمی صنعت کی ایک منفرد فلم ’’سائیکو‘‘ عیدالاضحیٰ 2026 کے موقع پر 27 مئی کو دنیا بھر میں ریلیز کے لیے تیار ہے۔
اس فلم کو ایک سنجیدہ، نفسیاتی اور موضوعاتی منصوبے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جو روایتی کمرشل سینما سے ہٹ کر انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔
فلم کی کہانی اس خیال کے گرد گھومتی ہے کہ حقیقت ہمیشہ سادہ یا ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ یہ طاقت، سماجی دباؤ، ذاتی مفادات اور چھپے ہوئے مقاصد سے بنتی ہے۔ اس وجہ سے سچ اور تاثر کے درمیان فرق آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے۔
فلم کا مرکزی پیغام ’’اصل دشمن انسان کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے‘‘ جو ناظرین کو اپنے اندر جھانکنے اور سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
فلم ’’سائیکو‘‘ کے پروڈیوسر ریڈ لپ اسٹک پروڈکشنز کے سی ای او سلیمان احمد بٹ ہیں جب کہ اس فلم میں جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی سنیماٹوگرافی، بین الاقوامی معیار کے ویژول ایفیکٹس اور عالمی طرز کی کہانی بیان کرنے کی تکنیکوں کو یکجا کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستانی سینما کو عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت دینا ہے۔
فلم کی کاسٹ میں شان شاہد، میرا، سونیا حسین، جاوید شیخ، نئیر اعجاز، شبیر جان اور عدنان بٹ شامل ہیں جنہوں نے شاندار اور حقیقت کے قریب اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔
فلم کا ٹیزر اس سے قبل لندن کے معروف او ٹو ایرینا میں پیش کیا گیا تھا جو پاکستانی سینما کے لیے ایک اہم بین الاقوامی سنگِ میل ثابت ہوا۔
فلم کی تشہیری مہم کے تحت ایک پریس بریفنگ کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں میڈیا نمائندگان کے لیے فلم کے ٹیزر کی اسکریننگ بھی شامل تھی۔ اس موقع پر شان شاہد، میرا اور نئیر اعجاز سمیت فلم کی مرکزی کاسٹ اور پروڈکشن ٹیم کے اہم اراکین نے شرکت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شان شاہد نے کہا فلم ’’سائیکو”سطحی کہانی پر مبنی نہیں بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کے گرد تشکیل دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’’یہ فلم ناظرین کو رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے انہیں خود مشاہدہ اور تشریح کرنے کی دعوت دیتی ہے، جہاں تاثر اور حقیقت ہمیشہ ہم آہنگ نہیں ہوتے‘‘۔
اداکارہ میرا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’میں نے اس فلم میں اپنے کردار کو ادا کرنے کے بجائے اسے سمجھنے پر توجہ دی ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ ان کے اس رحجان کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ بامعنی اور مواد پر مبنی کام کو ترجیح دے رہی ہیں جو اسکرین سے آگے بھی اثر رکھتا ہو۔
پروڈیوسر سلیمان احمد بٹ نے کہا ’’ہماری کوشش ہے کہ اس فلم کے ذریعے ایسا بامعنی تفریحی مواد پیش کیا جائے جو سماجی شعور کو بھی اجاگر کرے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص پیش کرے‘‘۔
فلمی ماہرین کے مطابق یہ فلم پاکستانی سینما میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے، جہاں بامعنی اور فکر انگیز کہانیوں پر توجہ دی جائے گی۔
توقع ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ناظرین کو ایک یادگار اور فکری طور پر متاثر کرنے والا فلمی تجربہ فراہم کرے گی۔