
سینیٹر سرمد علی نے کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات کو وزارتِ تعلیم کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کو سینیٹ آف پاکستان میں مؤثر انداز میں اٹھاتے رہیں گے۔
سینیٹر سرمد علی نے اپنے دفتر میں یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی ایک قومی درسگاہ ہے اور اس کے اساتذہ و ملازمین ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، لہٰذا ان کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر وفد نے یونیورسٹی کو درپیش شدید مالی بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ اس وقت سنگین مشکلات کا شکار ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی میں تاخیر معمول بن چکی ہے، جب کہ پنشنرز بھی شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مالی بحران کے باعث تدریسی، تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے صدر روشن علی سومرو نے کہا کہ یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین انتظامی فورم، سینیٹ، طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس میں صرف ایک اجلاس کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ انتظامی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث اہم پالیسی فیصلے تعطل کا شکار ہیں اور گورننس کمزور ہو چکی ہے۔
انہوں نے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ یا وہ خود اجلاس کی صدارت کریں یا فوری طور پر ڈپٹی چیئرپرسن مقرر کریں تاکہ آئینی و قانونی معاملات کو فعال بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر افتخار احمد طاہری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ تاحال کسی بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث اساتذہ، ملازمین اور طلبہ شدید بے یقینی کا شکار ہیں۔
سینیٹر سرمد علی نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے یونیورسٹی کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔
ملاقات کے اختتام پر وفد نے سینیٹر سرمد علی کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہیں ایک کتاب بطور تحفہ بھی پیش کی گئی۔