یورپ میں جہازوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیوں میں اضافہ، درجنوں فلائٹس متاثر

یورپ میں فضائی سفر ایک غیر معمولی سیکیورٹی صورتِحال سے دوچار ہے، جہاں مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم دھماکوں کی جعلی دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ ان دھمکیوں کے باعث متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا، کچھ طیاروں کو ہنگامی طور پر اتارا گیا جبکہ کئی کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں اپنی منزل تک پہنچایا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات 5 نومبر کو یورپ بھر میں تقریباً 30 پروازیں بم کی جعلی دھمکیوں سے متاثر ہوئیں۔ اس سے قبل منگل کو بھی کم از کم سات پروازوں اور ایک کروز شپ کو اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ رواں ہفتے سامنے آنے والے ان واقعات نے یورپی فضائی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اب تک کسی حکومت نے ان واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی کسی گروہ کی جانب سے ان دھمکیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ان واقعات کے پیچھے ذاتی رنجش رکھنے والے افراد ہوسکتے ہیں۔ تاہم، ان میں ایک منظم کارروائی کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں جسے ہائبرڈ حملہ کہا جاتا ہے۔

ہائبرڈ حملے سے مراد ایسی کارروائیاں ہیں جن میں سائبر حملوں، غلط معلومات، تخریب کاری اور دیگر طریقوں کے ذریعے کسی ملک کے نظام کو متاثر کرنے یا عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

فضائی سیکیورٹی گروپ ڈائمی کے سربراہ ایرک شوٹن کے مطابق ایسی کارروائیوں کے پیچھے کسی مخصوص ملک کا ہاتھ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، تاہم موجودہ واقعات کا طریقہ کار ماضی میں سامنے آنے والی ہائبرڈ کارروائیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔

اٹلی کے ایئرپورٹس کو دھمکی آمیز ای میل

اٹلی میں ایک ایئرپورٹ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ روم کے فیومیچینو اور میلان کے مالپنسا ایئرپورٹس پر فضائی کمپنیوں، ایئرپورٹ آپریٹرز اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں کو ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔

ای میل کا عنوان ’تھریٹ رپورٹ‘ تھا اور بھیجنے والوں نے خود کو ’میل اسٹیٹ‘ نامی گروہ کا کارکن ظاہر کیا۔ پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ ہیلسنکی اور ڈبلن سے آنے والی پروازوں میں دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا ہے، جو 60 منٹ میں پھٹ جائے گا۔

دوسری جانب روسی بلاگر ولادیسلاو پوزدنیاکوف، جس نے 2016 میں میل اسٹیٹ نامی تحریک قائم کی تھی، نے ان دھمکیوں میں اپنے گروہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ یہ تحریک بعد میں روس میں پابندی کا شکار ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق یہ گروہ اب موجود نہیں اور اس کے نام پر یورپی ممالک میں کارروائیاں کرنے والے افراد اپنے مقاصد کے لیے اس کا نام استعمال کررہے ہیں۔

لڑاکا طیاروں کی مدد سے پروازوں کی نگرانی

ان دھمکیوں کے نتیجے میں فرانس، بلغاریہ، رومانیہ، اسپین، پولینڈ اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک میں فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔

فرانس کے وزیراعظم سباسٹین لیکورنو کے دفتر کے مطابق ڈبلن سے روم جانے والی ایئر لنگس کی ایک پرواز کو فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے روک کر ایوریو میں واقع فضائیہ کے اڈے تک پہنچایا۔ وزیراعظم کے دفتر نے بتایا کہ پائلٹ نے حکام کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا تھا، تاہم اس رویے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

بلغاریہ کی فضائیہ کے مطابق اس نے تین مسافر طیاروں کو اپنی نگرانی میں بحفاظت زمین پر اتارا۔ ان میں لندن سے صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی پرواز بھی شامل تھی، جس کا رخ تبدیل کرکے ملک کے دوسرے بڑے شہر پلوودیف کی جانب موڑ دیا گیا۔

رومانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بتایا کہ ایمسٹرڈیم سے آنے والی کے ایل ایم کی ایک پرواز، جو بخارسٹ میں قیام کے بعد تل ابیب جارہی تھی، کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔

اسپین میں پولیس کو صرف 20 منٹ کے دوران تین دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں۔ ان میں میڈرڈ سے پیرس جانے والی ایئر یوروپا کی دو پروازوں اور روم و میلان سے آنے والی ایبیریا کی چار پروازوں کا ذکر تھا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث میڈرڈ ایئرپورٹ پر کئی طیاروں کو روک دیا گیا یا دوبارہ پارکنگ کی جگہ پر منتقل کیا گیا، جبکہ مسافروں کو اتار کر طیاروں کی تلاشی لی گئی۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں پیرس جانے والی ایل او ٹی کی ایک پرواز کو ٹیک آف سے قبل روک دیا گیا اور مسافروں کو دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔ اسی طرح ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے ایئرپورٹ پر بھی دو طیاروں کی تلاشی لی گئی۔

ایزی جیٹ، فن ایئر، ایل او ٹی، وِز ایئر، ریان ایئر اور ایئر سربیا کی پروازیں بھی دھمکیوں کی زد میں آئیں۔ ان میں پراگ، صوفیہ، ویانا، برسلز، بخارسٹ، روم اور میلان جانے والی پروازیں شامل تھیں۔ بعض طیارے معمول کے مطابق اپنی منزل پر پہنچے، تاہم انہیں راستے میں فوجی طیاروں کی نگرانی فراہم کی گئی۔

ان واقعات کے دوران مسافروں کو کئی مقامات پر اچانک ہنگامی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔

میلان سے بخارسٹ جانے والی وِز ایئر کی پرواز میں موجود ایک مسافر ایلینا پالا نے بتایا کہ طیارے کو ایئرپورٹ کے مرکزی ٹرمینل سے دور رن وے کے ایک حصے میں لے جایا گیا، جہاں فائر بریگیڈ، ایمبولینسز اور انسداد دہشت گردی کے اہلکار موجود تھے۔ ان کے مطابق مسافروں کو ابتدا میں صرف یہ بتایا گیا کہ ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

برطانوی ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر فلائٹ سیفٹی جوجی ویٹس کا کہنا تھا کہ فضائی کمپنیاں ہر دھمکی پر فوری کارروائی نہیں کرتیں بلکہ پہلے ماہرین اس کی ساکھ اور خطرے کی نوعیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر دھمکی قابلِ اعتبار قرار پائے تو ضروری حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

فضائی سفر میں خلل ڈالنے والی ان دھمکیوں کے ساتھ ہی یورپ میں دیگر اہم شعبوں پر سائبر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے سیکیورٹی ماہرین کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

فضائی سائبر سیکیورٹی کمپنی سائوی ایشن کے سربراہ ایلیران الموگ کے مطابق طیاروں کو بم کی جعلی دھمکیاں دینے کا ایک مقصد ایئرلائنز، ایئرپورٹس اور حکومتی اداروں کے ردعمل کا جائزہ لینا بھی ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے میں یورپ کی مختلف سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن سسٹمز اور فرانس کے بلڈ بینکس کو بھی سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نامعلوم ہیکرز نے دوسری مرتبہ کئی یورپی ممالک میں سپر مارکیٹوں کے فریزرز کو بند کیا، جبکہ فرانس کی متعدد بلڈ بینک سروسز بھی متاثر ہوئیں۔

ماہرین کے مطابق مختلف اہم شعبوں میں اس نوعیت کی رکاوٹیں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ عوام کا اداروں پر اعتماد بھی متاثر کرسکتی ہیں۔

تاہم فی الحال فضائی پروازوں کو موصول ہونے والی دھمکیوں اور دیگر سائبر حملوں کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ ان واقعات کے پیچھے ایک ہی گروہ ہے یا مختلف عناصر الگ الگ کارروائیاں کررہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles