امریکا کی منظوری کے بغیر ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کرسکتا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکا کی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کرسکتا، جبکہ امریکی انتظامیہ آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران کئی اہم اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق متعدد معاملات پر کام جاری ہے اور آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران اہم پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے معاملے میں مزید آگے بڑھنا ہے یا اسے حتمی شکل دینی ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں آئندہ کی حکمت عملی کا تعین امریکا نے کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی مڈٹرم انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مڈٹرم انتخابات درست انداز میں نہیں ہوئے اور کئی مقامات پر دھاندلی کی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مقامات پر دھاندلی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کا خاتمہ بہت قریب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی کیرل دمتریوف سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ طے پا جائے گا۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک بڑا معاہدہ ہوگا اور اس میں صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ یورپ کے دیگر ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا اور اہم معاہدہ ہوگا جس سے تمام فریق خوش ہوں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles