زندگی کی ابتدا سے متعلق کئی دہائیوں پرانی تھیوری غلط ثابت ہونے کا انکشاف

زمین پر زندگی کی ابتدا سے متعلق کئی دہائیوں سے رائج یہ نظریہ غلط ثابت ہوسکتا ہے کہ دمدار ستاروں نے اربوں سال پہلے زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ نئی کمپیوٹر سیمولیشنز کے مطابق دمدار ستارے زمین سے ٹکرانے کے دوران اتنی تیز رفتار سے آتے تھے کہ ان میں موجود زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات تباہ ہوجاتے تھے، جس کے باعث ان کا زمین پر محفوظ حالت میں پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔

یہ نتائج زندگی کی ابتدا سے متعلق ایک ایسے نظریے پر سوال اٹھاتے ہیں جو کم از کم 1961ء سے سائنسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ اس نظریے کے مطابق زندگی کے بنیادی اجزا خلا سے زمین پر پہنچے تھے۔ اس خیال کو سائنسی اصطلاح میں ’’پین اسپرمیا‘‘ کہا جاتا ہے، جسے 1908ء میں بھی سائنسی طور پر پیش کیا گیا تھا۔

زمین پر زندگی کے لیے پیچیدہ نامیاتی مرکبات ضروری ہیں، تاہم سائنس دانوں کو اب بھی یہ معلوم نہیں کہ ابتدائی زمین پر زندگی کی تشکیل کے لیے درکار بنیادی کیمیائی اجزا مناسب مقدار میں موجود تھے یا نہیں۔ زندگی کے بنیادی اجزا پیدا کرنے والے کیمیائی عمل کو پری بائیوٹک کیمسٹری کہا جاتا ہے۔

دمدار ستارے گردوغبار اور برف سے بنے ہوتے ہیں، تاہم ان میں نامیاتی مادے بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’’گندے برفانی گولے‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ یہ اجرامِ فلکی زمین پر پانی اور نامیاتی مرکبات پہنچانے کا ذریعہ بنے ہوں گے۔

تاہم نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ دمدار ستاروں میں زندگی کے لیے ضروری اہم مرکبات کی بڑی مقدار موجود ہونے کے باوجود ان کی تیز رفتار کے باعث یہ مرکبات زمین تک محفوظ حالت میں نہیں پہنچ سکتے تھے۔

تحقیق میں شامل سائنس دان اینسلو کے مطابق، دمدار ستاروں کی زمین سے ٹکرانے کے وقت رفتار اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ ان میں سے بہت کم، یا ممکنہ طور پر کوئی بھی، نامیاتی مرکبات کو اپنی اصل حالت میں زمین تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے دمدار ستارے زندگی کی ابتدا کے لیے بنیادی کیمیائی اجزا فراہم کرنے میں اتنے مؤثر نہیں تھے جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔

تحقیق کے مطابق کمپیوٹر سیمولیشنز میں 54 فیصد صورتوں میں دمدار ستارے زمین سے ٹکرائے ہی نہیں، جب کہ باقی 46 فیصد میں کم از کم ایک ٹکراؤ ہوا۔ ان میں سے بھی بہت کم صورتوں میں تین ٹکراؤ تک ریکارڈ کیے گئے۔

اینسلو کا کہنا تھا کہ اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی دمدار ستارہ زمین سے اس طرح ٹکرایا ہو کہ اس کے نامیاتی مرکبات محفوظ رہ گئے ہوں، تاہم ایسا ہونے کے لیے انتہائی موزوں مقام اور حالات ضروری تھے۔ اس مقام پر مائع پانی اور زندگی کی تشکیل میں مدد دینے والے دیگر کیمیائی مادوں کی موجودگی بھی لازمی تھی، جس سے یہ عمل مزید غیر یقینی ہوجاتا ہے۔

متبادل امکانات بھی زیرِ غور

تحقیق میں خاص طور پر ہائیڈروجن سائنائیڈ (HCN) نامی قدرتی کیمیائی مادے کا جائزہ لیا گیا، جو زندگی کی ابتدا سے متعلق کیمیائی عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ مادہ ہیلی اور ہیل بوپ سمیت کئی دمدار ستاروں میں دریافت کیا جاچکا ہے۔

ہائیڈروجن، کاربن اور نائٹروجن سے مل کر بننے والا یہ مرکب پانی کے ساتھ مل کر امینو ایسڈز کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ امینو ایسڈز وہ بنیادی مالیکیولز ہیں جن سے پروٹین بنتے ہیں۔ اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی ہائیڈروجن سائنائیڈ کو زمین پر زندگی کی ابتدا کے ممکنہ اہم اجزا میں شامل کیا گیا تھا۔

اینسلو کے مطابق، دمدار ستاروں کے زمین سے ٹکرانے کے دوران شدید دباؤ اور بلند درجہ حرارت پیدا ہوتا ہے، جس سے زندگی کی ابتدا کے لیے ضروری کئی بنیادی کیمیائی مرکبات تباہ ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی دمدار ستارہ زمین سے ٹکرانے کے بعد کچھ نامیاتی مادے محفوظ رکھنے میں کامیاب بھی ہوتا تو بھی ان کی مقدار زندگی کی تشکیل کے لیے کافی نہ ہوتی۔ سمندر میں گرنے کی صورت میں یہ مادے پانی میں تیزی سے حل ہوجاتے۔

اینسلو کے مطابق، زندگی کی ابتدا کے لیے فاسفورس اور سلفر پر مشتمل مرکبات سمیت کئی دیگر کیمیائی اجزا بھی درکار ہوتے ہیں، لیکن یہ مادے دمدار ستاروں میں عام طور پر نہیں پائے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دمدار ستارے ہائیڈروجن سائنائیڈ تو زمین تک پہنچا سکتے تھے، لیکن یہ یقینی نہیں تھا کہ ٹکراؤ کے مقام پر زندگی کی تشکیل کے لیے درکار دیگر تمام اجزا بھی موجود ہوں۔

سائنس دانوں کے مطابق، اگر دمدار ستارے زندگی کے بنیادی اجزا زمین تک پہنچانے کا اہم ذریعہ نہیں تھے تو اس حوالے سے دیگر امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ ابتدائی زمین پر موجود کیمیائی مادوں کے آمیزے نے خود ہی زندگی کے بنیادی اجزا تیار کیے ہوں گے۔

ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ نامیاتی مادے سیارچوں کے ذریعے زمین پر پہنچے ہوں۔ دمدار ستاروں کے مقابلے میں سیارچے عموماً کم رفتار سے زمین سے ٹکراتے تھے اور ان کی تعداد بھی زیادہ تھی۔

اینسلو نے سیارچوں بینیو اور ریوگو سے حاصل کیے گئے نمونوں کی حالیہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں پروٹین کی تشکیل کے لیے درکار بیشتر امینو ایسڈز موجود پائے گئے ہیں۔

مریخ پر زندگی کی ابتدا کا امکان

نئی تحقیق میں ایک اور امکان بھی سامنے آیا ہے کہ شاید ابتدائی مریخ پر دمدار ستاروں کے ذریعے زندگی کے بنیادی اجزا پہنچنے کے حالات زمین کے مقابلے میں زیادہ سازگار تھے۔

اینسلو کے مطابق، مریخ زمین سے بہت چھوٹا اور سورج سے زیادہ فاصلے پر ہے، اس لیے وہاں دمدار ستاروں کے ٹکرانے کی رفتار زمین کے مقابلے میں کم رہی ہوگی۔ نتیجتاً زمین پر جہاں شدید ٹکراؤ کے باعث ہائیڈروجن سائنائیڈ کے بیشتر مرکبات تباہ ہوجاتے تھے، مریخ پر ایسا ہونے کا امکان نسبتاً کم تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلو اس سوال کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آیا ماضی میں مریخ پر زندگی موجود تھی یا نہیں۔

دمدار ستاروں کا نظریہ مکمل طور پر مسترد نہیں

تاہم بعض سائنس دانوں کے خیال میں نئی تحقیق کے باوجود زندگی کی ابتدا میں دمدار ستاروں کے ممکنہ کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

رائل ہولوے یونیورسٹی لندن کی شعبہ ارضیاتی علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کوئینی چن، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کے مطابق ہائیڈروجن سائنائیڈ برفانی اجرام کے زمین کی فضا میں داخل ہونے سے پہلے بھی کیمیائی ردعمل سے گزر سکتا تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں ایسے اہم مرکبات بن سکتے تھے جو پروٹین کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں اور نسبتاً کم آسانی سے تباہ ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائیڈروجن سائنائیڈ کو محفوظ حالت میں زمین تک پہنچانے میں ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ دمدار ستارے دیگر اہم نامیاتی مرکبات زمین تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تھے۔

امریکی ریاست مشی گن کے البیون کالج میں شعبہ طبیعیات کی پروفیسر نکول زیلنر نے بھی کہا کہ وہ تحقیق کے نتائج پر حیران نہیں ہیں۔ تاہم وہ بھی زندگی کی ابتدا میں دمدار ستاروں کے ممکنہ کردار کو مکمل طور پر خارج کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق، محققین نے اس عمل کے امکانات اور حدود کا تعین کرنے کے لیے اہم سائنسی نکات پیش کیے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles