
پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر اتفاق کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی تجویز دے دی۔
پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق آن لائن اجلاس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور اور نورالحق قادری سمیت 40 سے زائد ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں گورنر راج، ایمرجنسی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ارکان نے تجویز دی کہ علی امین گنڈاپور کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ تمام معاملات باہمی مشاورت سے آگے بڑھائے جا سکیں۔
اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بات چیت کے ذریعے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو واپس لینے کی راہ ہموار کی جائے۔ ذرائع کے مطابق ارکان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کا مینڈیٹ واپس مل سکے گا۔
پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کے احتجاج کے لیے باہر نہ نکلنے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کارکن سڑکوں پر نکلتے تو 9 مئی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
اجلاس میں شریک چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے مطابق قومی اسمبلی میں بھی اکثریتی ارکان وفاقی حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں، جب کہ نورالحق قادری نے کہا کہ مشکل وقت میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے، وہ مذاکرات کے حامی ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلخیاں کم کرے اور گورنر راج و ایمرجنسی ختم کرے۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگر مذاکراتی عمل کے لیے علی امین گنڈاپور پارلیمانی پارٹی کی چوائس ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے علی امین گنڈاپور کو بانی پی ٹی آئی کا پرانا اور وفادار ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کے خلاف کسی نے کچھ کہا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔