
اسرائیل کے عام انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے اور کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کرسکا ہے، جس کے باعث ملک میں نئی حکومت کی تشکیل مشکل دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل کی 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی قیادت میں قائم دائیں بازو کا اتحاد اور ان کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ کی سینٹرلسٹ جماعت یاشر کی سربراہی میں اپوزیشن اتحاد دونوں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد اسرائیل کو کئی ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر کئی ماہ تک سیاسی بے یقینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور ایک دوسرے کے ساتھ حکومت بنانے سے متعلق تحفظات کے باعث کوئی قابل عمل اتحاد بنانا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم سیاسی صورتِ حال سے نکلنے کے لیے چار ممکنہ راستے زیر غور ہیں، جن میں اپوزیشن کی حکومت، قومی اتحاد کی حکومت، نیتن یاہو کے مخالف ارکان کو اپنے ساتھ ملانا اور دوبارہ انتخابات کرانا شامل ہیں۔
پہلا ممکنہ راستہ اپوزیشن جماعتوں کا مل کر نیتن یاہو کے بغیر حکومت بنانا ہے۔ اس منصوبے کے لیے اپوزیشن کو یہودی اور عرب جماعتوں کے درمیان تعاون پیدا کرنا ہوگا، لیکن یہی اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
اپوزیشن اتحاد میں شامل سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور سابق وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین عرب جماعتوں کے تعاون سے بننے والی کسی بھی حکومت کے مخالف ہیں۔ دونوں رہنما نہیں چاہتے کہ عرب جماعتیں حکومتی اتحاد کا حصہ بنیں یا باہر سے کسی اقلیتی حکومت کی حمایت کریں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر اپنا مؤقف مزید سخت کرلیا ہے۔
اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں اب تک صرف ایک مرتبہ کسی عرب جماعت نے مکمل طور پر حکومت میں شامل ہوکر حصہ لیا تھا۔ 2021 میں عرب جماعت رعام نے آٹھ جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی جس نے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹایا، تاہم یہ حکومت تقریباً ایک سال بعد ہی ختم ہوگئی تھی۔
اپوزیشن جماعتیں حکومت بنانے میں ناکام رہنے کے باوجود پارلیمنٹ میں اپنی ممکنہ اکثریت استعمال کرکے اہم عہدوں پر تبدیلیاں لاسکتی ہیں۔ اس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کی تبدیلی بھی شامل ہے، جس سے نیتن یاہو کی عبوری حکومت کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ تاہم ان جماعتوں کے لیے نیتن یاہو کی جگہ نیا وزیراعظم لانا اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
دوسرا راستہ قومی اتحاد کی حکومت کا قیام ہے۔ اس صورت میں دونوں بڑے سیاسی اتحاد اپنی موجودہ شکل ختم کرکے ایک مشترکہ حکومت بنانے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
ایسی حکومت میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے ساتھ ان کے موجودہ حکومتی اتحادیوں کے علاوہ اپوزیشن کی کم از کم ایک جماعت کو بھی شامل ہونا ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر سے علیحدگی اختیار کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں، تاہم وہ وزیر خزانہ بیزلیل سموترچ اور مذہبی جماعتوں کو حکومت سے الگ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ پہلے ہی نیتن یاہو کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہیں تو نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی شہری اسے اپنے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے مترادف سمجھ سکتے ہیں۔
تیسرا ممکنہ راستہ نیتن یاہو کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان یا انفرادی پارلیمنٹیرینز کو اپنے اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں تاکہ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کی جاسکے۔
تاہم یہ راستہ بھی آسان نہیں کیونکہ اپوزیشن اتحاد کے چاروں اہم رہنما گادی آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ، ایویگڈور لائبرمین اور یائیر گولان واضح کرچکے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔
نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے آٹھ نشستوں کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے انہیں اپوزیشن کے کم از کم آٹھ ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں ارکان کو اپنے ساتھ ملانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
چوتھا اور آخری راستہ نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں کسی بھی طریقے سے حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوئیں تو اسرائیل میں ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کرانا پڑسکتے ہیں۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ پارلیمنٹ میں پہنچنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ ان کی رائے لینے کے بعد صدر کسی ایک رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
اسرائیلی پارلیمانی نظام کے تحت حکومت بنانے کی ذمہ داری ملنے والے رہنما کو 28 دن کا وقت دیا جائے گا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔
اگر پہلا امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو یہ ذمہ داری سونپیں گے، جسے 28 دن میں حکومت بنانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس کے بعد بھی کامیابی نہ ملنے کی صورت میں پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت صدر سے کسی تیسرے امیدوار کو موقع دینے کی درخواست کرسکتی ہے۔ اس امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 14 دن ملیں گے۔
اگر ان تمام کوششوں کے باوجود کوئی جماعت یا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔
موجودہ صورتِ حال میں نیتن یاہو کو ایک اہم سیاسی برتری حاصل ہے کیونکہ وہ نئی حکومت بننے تک عبوری وزیراعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے اور وہ ناکام رہتے ہیں تو امکان ہے کہ یہ ذمہ داری نیتن یاہو کو سونپ دی جائے۔
اگر نیتن یاہو بھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اسرائیل میں سیاسی تعطل برقرار رہنے اور نئے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس دوران نیتن یاہو نئی حکومت کے قیام تک عبوری وزیراعظم رہیں گے۔
موجودہ انتخابی نتائج کے بعد اگلے سال موسم بہار سے پہلے دوبارہ انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات برقرار رہے تو یہ امکان حقیقت بن سکتا ہے۔
اگر اسرائیل میں دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں تو یہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ملک کے ساتویں عام انتخابات ہوں گے۔ اس طرح حالیہ نتائج نے اسرائیل کو ایک بار پھر طویل سیاسی بحران اور حکومت سازی کی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے۔