
خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے جدید فریزرز اور کولنگ سسٹمز اب سائبر حملوں کا ممکنہ ہدف بن رہے ہیں۔ ان نظاموں میں خرابی نہ صرف خوراک کو خراب کرسکتی ہے بلکہ اہم سپلائی چین کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر امریکی فوجی اڈوں پر فریزرز کی پُراسرار خرابیوں کو ممکنہ سائبر حملہ قرار دے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون اگست میں امریکا کے مختلف فوجی اڈوں پر پیش آنے والے فریزرز کی خرابی کے واقعات کو ممکنہ ہیکنگ کا نتیجہ سمجھ کر تحقیقات کر رہا ہے۔ اس معاملے سے واقف چار امریکی حکام نے بتایا کہ ان واقعات کے باعث فوجی اڈوں پر موجود دکانوں میں بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی تھی۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق فوجی تفتیش کار اس معاملے میں فرانسیسی حکام سے بھی رابطے میں ہیں، جہاں رواں ماہ کے آغاز میں سپر مارکیٹوں کے کمرشل فریزرز پر اسی نوعیت کے سائبر حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکی تحقیقات کس مرحلے میں ہیں، آیا حکام کسی نتیجے پر پہنچے ہیں یا ممکنہ حملے کے پیچھے کون ملوث ہوسکتا ہے۔
پینٹاگون نے تحقیقات سے متعلق سوال پر رائٹرز کو بتایا کہ امریکی سائبر کمانڈ کا ایک یونٹ متعلقہ سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے، تاہم اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے تحت آرمی کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن نے بھی تصدیق کی کہ اس کا سائبر فیلڈ آفس تحقیقات میں شامل ہے اور یورپ میں کولنگ سسٹمز کی خرابیوں کو سمجھنے کے لیے فرانسیسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اگست کے آخری دنوں میں امریکا کے کم از کم چھ فوجی اڈوں پر قائم کمیشنری اسٹورز متاثر ہوئے۔ یہ وہ دکانیں ہیں جہاں فوجی اہلکار اپنی روزمرہ خوراک اور دیگر اشیا خریدتے ہیں۔ ان واقعات کی تصدیق فوجی اڈوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری پیغامات اور ویب سائٹس پر موجود اپ ڈیٹس کے جائزے سے ہوئی۔
ان میں سے کم از کم ایک واقعے میں فریزر محض بند نہیں ہوئے بلکہ ان کے کولنگ سسٹم کا درجہ حرارت رات کے وقت بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں صبح تک بڑی مقدار میں خوراک پگھل کر خراب ہوچکی تھی۔ ایریزونا کے فورٹ ہواچوکا فوجی اڈے کے فیس بک اکاؤنٹ پر 26 اگست کو بتایا گیا کہ وہاں کا فریزر ڈی فراسٹ موڈ میں چلا گیا تھا، جس کے دوران اس نے اندر موجود خوراک کو گرم کردیا اور وہ استعمال کے قابل نہیں رہی۔
فرانس میں بھی اسی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ پیش آچکا ہے، جہاں ہیکرز نے 350 سے زائد تجارتی مراکز میں کولنگ یونٹس کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نظام میں مداخلت کی۔ اس حملے کے نتیجے میں سپر مارکیٹوں کے منجمد خوراک والے حصے خراب اشیا سے خالی کرنا پڑے۔ بعض مقامات پر فریزرز کا درجہ حرارت اس قدر بڑھا دیا گیا کہ ان میں آگ لگ گئی۔ ایک فرانسیسی سپر مارکیٹ کے مالک نے اندازہ لگایا تھا کہ اس حملے سے ملک بھر میں ہونے والا مجموعی نقصان کروڑوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرانسیسی حملہ نسبتاً آسانی سے کیا گیا، کیونکہ متاثرہ کولنگ یونٹس میں سے کئی پرانے کنٹرولرز اور فرسودہ سافٹ ویئر استعمال کر رہے تھے۔ ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس نے بھی بتایا تھا کہ اس کے کئی متاثرہ آلات پرانا فرم ویئر استعمال کر رہے تھے، جس سے ہیکرز کے لیے ان تک رسائی حاصل کرنا آسان ہوسکتا تھا۔ تاہم یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ امریکی فوجی اڈوں پر بھی ڈینفوس یا کسی دوسری کمپنی کے یہی کنٹرولرز استعمال ہورہے تھے۔
صنعتی سائبر سکیورٹی کمپنی زونا سسٹمز کے چیف ایگزیکٹو بل مور کے مطابق کولنگ سسٹمز کے کنٹرولرز ابتدا میں ایسے آلات تھے جنہیں ٹیکنیشن موقع پر جاکر چلاتے تھے، لیکن اب انہیں انٹرنیٹ سے منسلک کیا جانے لگا ہے۔ اس تبدیلی نے انہیں سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار کردیا۔، جس کے نتیجے میں خوراک کی ترسیل کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کولنگ سسٹمز پر سائبر حملے خوراک کی ترسیل اور سپلائی چین میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ رواں سال گلوبل فوڈ سیفٹی انیشی ایٹو نے بھی خوراک کے تحفظ سے وابستہ ماہرین اور آئی ٹی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ریفریجریشن ٹیکنالوجی کی سائبر سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کریں، کیونکہ ہیک کیا گیا کولنگ سسٹم بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے جتنا خراب ہوجانے والا نظام۔
ماضی میں بھی امریکا اور دیگر ممالک میں فریزرز اور ریفریجریشن سسٹمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ ڈینفوس کے مطابق 2022 میں روس اور اسرائیل کی بعض سپر مارکیٹوں میں اس کے پرانے کولڈ اسٹوریج کنٹرولرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی وفاقی استغاثہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک یوکرینی خاتون پر ایسے ہیکر گروپ کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس نے 2024 میں ایک گوشت پراسیسنگ پلانٹ کا ریفریجریشن سسٹم ناکارہ بنا دیا تھا، جس سے 2 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ گوشت خراب ہوگیا تھا۔
اگر امریکی فوجی اڈوں پر فریزرز کی خرابی سائبر حملے کا نتیجہ ثابت ہوتی ہے تو یہ اہم بنیادی ڈھانچے کے ان خطرات کی ایک اور مثال ہوگی جن کے ذریعے ہیکرز انٹرنیٹ کے راستے خوراک کے ذخیرے اور ترسیل کے نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔