امریکی ناکا بندی کے باوجود ایران کا میزائل اور ڈرون پروگرام کیسے چل رہا ہے؟

’رائٹرز‘ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں اور بحری ناکا بندی کے باوجود میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے درکار پرزے اور دیگر سامان خفیہ مالی و تجارتی نیٹ ورک کے ذریعے حاصل کرتا رہا۔ تحقیق کے مطابق، فروری میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد بھی زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے ایران تک سامان پہنچتا رہا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خصوصی تحقیق کے مطابق، ایران نے وزارتِ دفاع کے نام سے منسلک 5 ہزار سے زائد اداروں پر مشتمل ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے امریکی بحری ناکا بندی اور مغربی پابندیوں سے بچتے ہوئے فوجی سازوسامان، دھماکا خیز مواد، میزائل اور ڈرون بنانے کے لیے ضروری پرزے اور بھاری ٹرک درآمد کیے گئے۔

تحقیق کے مطابق، جنوری 2025 سے اب تک درآمد کیے گئے اس سامان کی مالیت 2 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس نیٹ ورک کی مدد سے ایران کا فوجی نظام ایسے وقت میں بھی ضروری سامان حاصل کرتا رہا، جب ملک جنگ میں مصروف تھا اور ایرانی فوج ہزاروں میزائل اور ڈرون استعمال کر رہی تھی۔

’رائٹرز‘ کے مطابق، اس انکشاف سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ امریکی فوجی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود ایران اپنے میزائل اور ڈرون ذخائر کو کس طرح دوبارہ بھر رہا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان اداروں کے نام عموماً حروفِ تہجی ’ایم او ڈی‘ سے شروع ہوتے ہیں، جو وزارتِ دفاع کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان اداروں کا مشترکہ پتہ تہران میں ایران کی وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کے لاجسٹکس کے مرکزی دفتر کا ہے۔

دستاویزات میں ان کے قیام کی تاریخ 11 فروری 1979 درج ہے، جو آیت اللہ خمینی کے اقتدار میں آنے کا دن ہے، تاہم ’رائٹرز‘ کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر ادارے دراصل 2013 میں قائم کیے گئے تھے۔

اس وقت ایران کو سخت پابندیوں کا سامنا تھا، جن کے باعث اس کی خام تیل کی برآمدات اور کرنسی متاثر ہوئی تھیں۔

’رائٹرز‘ نے اسرائیلی اور امریکی خطرات کا تجزیہ کرنے والی مشاورتی کمپنی 240 اینالیٹکس کے تعاون سے ان اداروں کی نشاندہی کی۔

تحقیق کے مطابق، یہ نیٹ ورک ایران کے فوجی سازوسامان کی خریداری اور پابندیوں سے بچنے کے نظام کی بنیاد ہے۔ اس میں فرنٹ مین اور بیرونِ ملک قائم شیل کمپنیاں شامل ہیں، جنہیں تحقیق میں ’ٹرسٹیز‘ کہا گیا ہے۔

یہ ادارے مبینہ طور پر غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کرکے ایران کے لیے سامان خریدتے ہیں۔

چین، روس اور جرمنی سے سامان کی درآمد

تحقیق میں ایک ادارے، ایم او ڈی 346428، کی درآمدات کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا۔’رائٹرز‘ کے مطابق، جنوری 2025 سے جون 2026 کے دوران اس ادارے نے راکٹوں کے ایندھن، دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کے ایسے پرزے بڑی مقدار میں درآمد کیے جو میزائل اور ڈرون بنانے کے لیے اہم ہیں۔

اس نے بھاری ٹرک بھی منگوائے، جنہیں میزائل لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سامان زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے ایران پہنچا، جب کہ درآمدی ریکارڈ میں اس کی بڑی مقدار کا تعلق چین، روس اور جرمنی سے ظاہر کیا گیا۔

تحقیق کے دوران سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں ایرانی کسٹمز کے احاطے میں موجود ایویکو ٹرکوں پر عربی اور فارسی اعداد لکھے دکھائی دیے۔ ان اعداد کا موازنہ یورپ سے درآمد کیے گئے ٹرکوں کے شناختی نمبروں سے کیا گیا۔

’رائٹرز‘ نے اس تحقیق کے لیے ایرانی بینکوں اور حکومتی اداروں کے ہزاروں ریکارڈ، کمپنیوں کی دستاویزات اور درآمدی اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ادارے نے تقریباً 19 ہزار درآمدی ریکارڈز میں سے ایک حصے کو شپنگ دستاویزات، سوشل میڈیا ویڈیوز اور سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے ساتھ ملا کر جانچا۔

ریکارڈ کے مطابق، تقریباً تمام درآمدی اشیا ڈیوٹی سے مستثنیٰ تھیں اور انہیں خصوصی طور پر فوجی سازوسامان کے طور پر درج کیا گیا تھا۔

ایرانی فوجی حکام اور پاسدارانِ انقلاب سے روابط

’رائٹرز‘ کی تحقیق کے مطابق، ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ اعلیٰ فوجی عہدیدار اس نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان 91 اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ فون نمبرز ایسے ریکارڈز میں بھی سامنے آئے جو سرکاری بینک سپاہ میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے اکاؤنٹس سے متعلق تھے۔

ان میں کم از کم دو ایسے کمانڈر بھی شامل ہیں جن پر امریکا نے شہری مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایران کی فوج پر کئی دہائیوں سے امریکی پابندیاں عائد ہیں، تاہم تحقیق میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ دستاویزات میں درج ان مخصوص نمبر والے اداروں کو مغربی حکومتوں نے باضابطہ طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہو۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سابق سینئر عہدیدار میاد مالکی، جنہوں نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے پروگرام کی تیاری میں حصہ لیا تھا، نے اس نیٹ ورک کو ایرانی حکومت کی فوجی تجارت کا مکمل نظام قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ نیٹ ورک موجودہ جنگ کے دوران اور اس سے کئی سال پہلے سے ایرانی فوج کے لیے سامان کی فراہمی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔

امریکا کا مؤقف اور ایران کا ردعمل

’رائٹرز‘ کے مطابق، تحقیق کے نتائج پر ایران کے سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم تہران کی اقوام متحدہ میں جنیوا کے وفد اور ایرانی صدر کے دفتر سمیت کسی بھی متعلقہ ادارے نے تفصیلی سوالات کا جواب نہیں دیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی ترجمان نے ’رائٹرز‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایرانی حکومت کے معاشی وسائل تک رسائی کے اہم ذرائع منقطع کر دیے ہیں۔

ان کے مطابق، ایران پابندیوں سے بچنے، اپنے فوجی اور ہتھیاروں کے پروگراموں کے لیے رقم حاصل کرنے اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی کی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے، تاہم امریکا ان کوششوں سے آگے ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے واضح کیا کہ درآمد کیے گئے بہت سے مواد دوہرے استعمال کے حامل ہیں، یعنی انہیں فوجی مقاصد کے علاوہ شہری استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ دھماکا خیز مواد سمیت بعض اشیا کے بارے میں بھی یہ امکان موجود ہے کہ انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

’رائٹرز‘ کی تحقیق کے مطابق، یہ نیٹ ورک ایران کو میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے درکار خام مال اور دیگر سازوسامان فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

ایسے ہتھیار خلیجی خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملوں میں بھی استعمال ہوئے، جب کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں اور پابندیوں کے باوجود ایران کی جانب سے ان ہتھیاروں کا استعمال جاری رہا۔

بیرونِ ملک تیل کی آمدن سے فوجی خریداری

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے سابق نائب ڈائریکٹر میاد مالکی کے مطابق، ایران کے خفیہ فوجی ادارے عالمی تجارت کے باضابطہ نظام کے متوازی ایک ایسا نیٹ ورک چلاتے ہیں جس کے ذریعے بیرونِ ملک غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم فوجی سازوسامان خریدنے پر خرچ کی جاتی ہے۔

’رائٹرز‘ کی جانب سے جانچے گئے درآمدی ریکارڈ کے مطابق، 97 فی صد ترسیلات کی ادائیگی کرنسی سرحد پار منتقل کیے بغیر کی گئی۔ اس طریقے میں بیرونِ ملک مقیم قابلِ اعتماد واسطے، غیر ملکی بینکوں میں موجود نقد رقم استعمال کرکے سامان خریدتے اور اسے ایران پہنچاتے ہیں۔ اس طرح رقم کی بین الاقوامی منتقلی کے دوران پابندیوں سے متعلق نگرانی سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے والوں میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا فوجی یونٹ بھی شامل ہے۔ ایک اور ادارہ سہارا تھنڈر ہے، جس پر امریکا نے 2024 میں روس کو ڈرون تیار کرکے فراہم کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ ڈرون یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے اور 240 اینالیٹکس نے درآمدی ریکارڈ، کمپنیوں کی رجسٹریشن دستاویزات، ای میلز اور وکی ایران ویب سائٹ پر موجود مواد کا تقابل کرکے ایرانی فوجی اداروں کی شناخت کی۔ وکی ایران کی انتظامیہ کی شناخت ’رائٹرز‘ آزادانہ طور پر نہیں کر سکا۔ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اسے حکومت مخالف ایرانی چلاتے ہیں جنہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔

میزائل اور ڈرون بنانے کے لیے درکار سامان

درآمدی اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے پہلے چھ ماہ میں ایران پہنچنے والے سامان میں 19 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈیٹونیٹرز، کئی ٹن دھماکا خیز مواد، طیاروں کے انجنوں کے پرزے، راکٹ ایندھن میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا اور بھاری گاڑیاں شامل تھیں۔ اسلحے اور پابندیوں کے ماہرین کے مطابق، ان میں سے متعدد اشیا بیلسٹک میزائلوں اور شاہد سیریز سمیت مختلف ڈرونز کی تیاری اور انہیں چلانے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

ایران کی فوج درآمد شدہ ٹرکوں کے ذخیرے کو چھپاتی نہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اور فوجی پریڈز میں ٹویوٹا اور ایویکو کی گاڑیاں باقاعدگی سے دکھائی دیتی ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے محقق پیٹر سیلسبری کے مطابق، یہ درآمدات ایران کے موجودہ میزائل اور ڈرون ذخیرے کو دوبارہ بڑھانے یا اس میں توسیع کرنے کی صنعتی پیمانے کی کوشش کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار ایران کے نظام کی بدلتے حالات کے مطابق نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت ظاہر کرتے ہیں۔

سیلسبری اور ایک دوسرے ماہر نے بتایا کہ وہ ماضی میں بھی وکی ایران کے مواد سے استفادہ کر چکے ہیں اور اسے درست پایا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے رواں سال 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے متعلق اہداف، بشمول اسلحہ تیار کرنے والی بعض فیکٹریوں، کو نشانہ بنایا۔ ’رائٹرز‘ نقصان کی مکمل حد کا تعین نہیں کر سکا، تاہم ایران نے اپنے پڑوسی ممالک اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے۔

روس، چین اور وسطی ایشیا سے سامان کی ترسیل

’رائٹرز‘ کے جائزہ لیے گئے دستاویزات اور درآمدی ریکارڈ کے مطابق، ایران کو سامان روس سے بحیرہ کیسپین کے راستے بحری جہازوں، وسطی ایشیا سے ٹرکوں اور چین سے مال بردار طیاروں کے ذریعے پہنچایا گیا۔

’رائٹرز‘ کے سوالات کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے بیان کردہ صورت حال کا علم نہیں۔ وزارت نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ وہ علاقائی کشیدگی کو چین سے جوڑنے یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ روس کی وزارت دفاع، وائٹ ہاؤس اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

درآمدات میں صرف تیار شدہ پرزے ہی نہیں بل کہ ایسی مشینری بھی شامل تھی جسے ایران اپنے فوجی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ جون 2026 تک کے ریکارڈ میں کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول ہونے والی جدید لیتھ مشینیں، الیکٹرون بیم فرنسز اور پارٹیکل ایکسیلیریٹرز جیسی اشیا شامل ہیں۔

ان مشینوں کے صنعتی استعمال بھی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق انہیں میزائلوں اور ڈرونز کے ڈھانچے سمیت فوجی سازوسامان بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

12 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اگر ایسا ہو بھی رہا ہے تو یہ بہت محدود سطح پر ہوگا، تاہم درآمدی ریکارڈ اور دستاویزات ایران کو روس، چین اور وسطی ایشیا سے سامان پہنچنے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جون 2026 کی ایک ترسیل میں روس سے 19 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈیٹونیٹرز بھی شامل تھے۔

متحدہ عرب امارات سے بھی درآمدات

درآمدی اعداد و شمار کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی فوج نے متحدہ عرب امارات سے تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا سامان خریدا، جس کی تقریباً تمام ترسیل سمندری راستے سے ہوئی۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، ان میں سے بعض درآمدات ایسے عرصے میں بھی جاری رہیں جب ایران متحدہ عرب امارات کے بنیادی ڈھانچے اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

متحدہ عرب امارات سے آنے والی تازہ ترین درج شدہ ترسیل 27 جون 2026 کو سمندری راستے سے پہنچی۔ ریکارڈ میں اسے الیکٹرانکس قرار دیا گیا تھا۔ یہ ترسیل امریکا کی جانب سے بحری ناکا بندی معطل کرنے کے اعلان کے نو روز بعد ہوئی۔

ناکا بندی جولائی کے وسط میں دوبارہ نافذ کر دی گئی اور ’رائٹرز‘ کے مطابق رپورٹ کی اشاعت کے وقت بھی برقرار تھی۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ان ترسیلات پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

خفیہ نیٹ ورک کے مالیاتی معاملات کا سراغ

240 اینالیٹکس کے سینئر تجزیہ کار نوام بن اسٹوک نے بتایا کہ انہوں نے جون 2025 میں ایرانی بینک سپاہ کی دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے ان نمبر شدہ اداروں کی نشان دہی کی۔ یہ دستاویزات انہیں ٹیلی گرام اور وکی ایران پر دستیاب مواد سے ملی تھیں۔ بینک سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں سے متعلق خدمات انجام دیتا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق، بینک کے ریکارڈ میں اکاؤنٹ رکھنے والے اداروں کے نام، شناختی نمبر اور بیلنس درج تھے۔ بن اسٹوک کو معلوم ہوا کہ 36 اداروں کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں 2024 کے اختتام پر مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر موجود تھے، جب کہ نیٹ ورک کے باقی اداروں کے پاس مقامی کرنسی میں تقریباً 1.8 ارب ڈالر تھے۔ مقامی کرنسی کے ان اکاؤنٹس میں اوسطاً تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار ڈالر کے مساوی رقم موجود تھی۔

بن اسٹوک کے مطابق، بعد میں مزید دستاویزات کا جائزہ لینے پر انہیں ایسے شواہد ملے جن سے پتا چلا کہ یہی ادارے غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم وصول کرتے اور بڑی مقدار میں ایسی اشیا خریدتے تھے جنہیں سویلین اور فوجی، دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہر ادارے کا ایک منفرد 11 ہندسوں پر مشتمل سرکاری شناختی نمبر تھا اور وہ ایران کی کمپنیوں کی رجسٹری میں بھی درج تھا۔ یہی نمبر بل آف لیڈنگ، رسیدوں اور بینک اکاؤنٹس میں بار بار سامنے آتا تھا، جس سے واسطہ کمپنیوں کے استعمال کے باوجود ان اداروں کے مالیاتی اور تجارتی روابط کا سراغ لگانا ممکن ہوا۔

240 اینالیٹکس نے بعد ازاں ’رائٹرز‘ کے ساتھ مل کر اس نیٹ ورک کا جائزہ لیا۔ ’رائٹرز‘ نے ان شناختی نمبروں کی مدد سے خفیہ شپنگ دستاویزات، تازہ درآمدی ریکارڈ اور ایرانی کمپنیوں کی سرکاری رجسٹری کا جائزہ لیا تاکہ نیٹ ورک کے حجم اور جنگ کے دوران فوجی سامان کی فراہمی میں اس کے کردار کا پتا چلایا جا سکے۔

ایران کے فوجی ادارے کی اربوں ڈالر کی درآمدات

’رائٹرز‘ کے مطابق، ایم او ڈی 346428 ایران کی وزارتِ دفاع سے منسلک ان نمبر شدہ فوجی اداروں میں سے ایک ہے، جو خفیہ تجارتی نیٹ ورک کے ذریعے فوجی سازوسامان درآمد کرتے ہیں۔ ان اداروں کے نام میں ایم او ڈی کے حروف کے بعد پانچ یا چھ ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر شامل ہوتا ہے۔ ان کا نیٹ ورک بیرونِ ملک سے فوجی سامان حاصل کرنے اور اس کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ایم او ڈی 346428 کی بیرونِ ملک خریداریوں میں کئی برسوں سے اضافہ ہو رہا تھا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2023 کو ختم ہونے والے 12 ماہ میں اس کی درآمدات 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں، جو اگلے سال کے دوران بڑھ کر 98 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔ اس طرح یہ ادارہ ایران کے دس بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہو گیا۔

جنوری 2025 سے جون 2026 تک ایم او ڈی 346428 نے 2.3 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان درآمد کیا، جس کی تفصیلات امپورٹ جینئس کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔

جنوری سے اپریل 2025 کے دوران اس ادارے نے بندر عباس کی بندرگاہ پر 886 ٹن کیمیکل درآمد کیے۔ ریکارڈ میں ان کا ملکِ اصل چین درج تھا۔ متعلقہ کسٹمز کوڈ میں سوڈیم کلوریٹس اور دیگر پرکلوریٹس جیسی اشیا شامل ہیں، جو ٹھوس راکٹ ایندھن بنانے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

آخری کھیپ پہنچنے کے تین روز بعد بندرگاہ پر ایک بڑا دھماکا ہوا۔ دو افراد نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ 26 اپریل کو ہونے والا دھماکا بندرگاہ پر موجود شپنگ کنٹینروں میں سوڈیم پرکلوریٹ کے جلنے سے ہوا تھا۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، کیمیکل سینا پورٹ اینڈ میرین سروسز ڈیولپمنٹ کمپنی کے پاس ذخیرہ کیے گئے تھے۔ یہ کمپنی بنیاد مستضعفان کی ملکیت ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر کے براہِ راست کنٹرول میں کام کرنے والی ایک بڑی فاؤنڈیشن ہے۔

دھماکے میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 1,200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت کمپنی کے سربراہ نے کہا تھا کہ یہ واقعہ سامان کے بارے میں غلط بیان اور ایسی کھیپ سے متعلق تھا جو دستاویزات اور لیبل کے بغیر پہنچائی گئی تھی۔ تاہم ’رائٹرز‘ آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آخری 75 ٹن کی کھیپ میں موجود کیمیکل دھماکے کی وجہ بنے تھے یا نہیں۔

امریکا نے 2020 میں بنیاد مستضعفان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے الزام لگایا تھا کہ غریبوں کی مدد کے لیے قائم اس فاؤنڈیشن کو سپریم لیڈر کے دفتر کو مالی فائدہ پہنچانے اور اتحادیوں کو نوازنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فاؤنڈیشن کے سربراہ حسین دہقان 2013 میں ایران کے وزیر دفاع مقرر ہوئے تھے، اسی سال کے آس پاس ان نمبر شدہ اداروں میں سے بڑی تعداد قائم کی گئی۔ دہقان نے دھماکے، ان فوجی اداروں اور فاؤنڈیشن میں اپنے کردار سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔

فوجی لانچر کے طور پر استعمال ہونے والے ٹرک

میزائل ایندھن کے اجزا کے علاوہ، درآمدی ریکارڈ میں بھاری ٹرک بھی شامل ہیں جنہیں ایران کی فوج میزائلوں اور ڈرونز کے لیے چھپے ہوئے موبائل لانچر کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

وکی ایران کے ریکارڈ کے مطابق، 2022 کے موسمِ خزاں میں اٹلی میں مقیم ایک ایرانی کار ڈیلر نے 4 لاکھ 26 ہزار یورو میں چھ ایویکو یوروکارگو ٹرک خریدے۔ بعد میں یہ ٹرک دبئی کی کمپنی ڈیلامی ٹریڈنگ کو بھیجے گئے، جس نے انہیں بندر عباس پہنچایا۔

دستاویزات کے مطابق، آخری خریدار کا 11 ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر MOD 346428 سے تعلق رکھتا تھا اور پیکنگ لسٹ میں سامان کی آخری منزل سہارا تھنڈر درج تھی۔ ڈیلامی ٹریڈنگ نے اس لین دین پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

جنوری 2025 سے جون 2026 کے درمیان ایم او ڈی 346428 نے مزید 435 ایویکو ٹرک درآمد کیے۔ ’رائٹرز‘ نے سیٹلائٹ تصاویر اور سوشل میڈیا مواد کی مدد سے بعض ٹرکوں کو فروری 2025 میں تہران کے مضافات میں واقع ایک کسٹمز یارڈ تک پہنچایا۔ درآمدی ریکارڈ سے ملنے والے تین گاڑیوں کے شناختی نمبروں کے ذریعے ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔

جنگ کے دوران مارچ میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس کے مطابق ایران کے ایک بھیس بدلے ہوئے موبائل میزائل لانچر پر حملہ دکھایا گیا تھا۔ تاہم ’رائٹرز‘ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی ایم او ڈی 346428 کی درآمد کردہ گاڑیوں میں شامل تھی۔ تاہم برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، تباہ ہونے والی گاڑی ایویکو کے اسی ماڈل کی تھی جو ایران درآمد کرتا رہا ہے۔

ایویکو نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اس کے باضابطہ ڈسٹری بیوٹرز اس بات کی ضمانت دینے کے پابند ہیں کہ گاڑیاں فوجی، کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔ کمپنی کے مطابق، تیسرے فریق کے ذریعے منتقل یا برآمد کی جانے والی ان مصنوعات پر اس کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔

کمپنی نے کہا کہ اسے 2022 میں ایرانی شہری کو ہونے والی فروخت کا ریکارڈ نہیں ملا، جب کہ 2025 میں کسٹمز یارڈ میں شناخت کیے گئے بیشتر ٹرک وسطی ایشیا کے لیے مختص تھے۔

اسی ادارے کے ذریعے ایران نے ہزاروں ٹویوٹا ہائی لکس اور لینڈ کروزر ٹرک بھی درآمد کیے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب اور اس سے وابستہ گروہ ان گاڑیوں کے پچھلے حصے میں بھاری مشین گنیں نصب کرتے ہیں۔ رواں سال ایران میں ہونے والے احتجاج کی ویڈیوز میں شمالی شہر تنکابن کی سڑکوں پر لینڈ کروزر گاڑیوں کے قافلے میں سیکیورٹی اہلکاروں کو مشین گنوں کے ساتھ دیکھا گیا۔

جنوری 2025 میں ایم او ڈی 346428 نے چار ٹویوٹا ٹنڈرا گاڑیاں بھی درآمد کیں۔ ٹویوٹا کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی ایران میں کاروبار نہیں کرتی اور ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں بیان کردہ خریداریوں میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جاپان کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت نے کہا کہ وہ قومی سلامتی سے متعلق اشیا پر سخت برآمدی کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔

امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران بھی درآمدات جاری رہیں

9 فروری 2026 کو ایک بحری جہاز 93 ٹن غیر تیار شدہ چینی ٹائٹینیم لے کر بندر عباس پہنچا۔ اسلحے اور پابندیوں کے ماہرین کے مطابق، یہ مضبوط دھات میزائلوں کے بیرونی ڈھانچے اور راکٹ موٹر کے خول بنانے میں استعمال ہو سکتی ہے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مہینے میں بحری جہاز مجموعی طور پر 268 ٹن نائٹروسیلولوز اور 276 ٹن دیگر کیمیکل بھی ایران لائے۔ ان اشیا کا ملکِ اصل چین درج تھا اور متعلقہ کسٹمز کوڈ میں پرکلوریٹس جیسی مصنوعات شامل تھیں، جو راکٹ ایندھن اور دھماکا خیز مواد دونوں کی تیاری میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

امریکی بحری ناکا بندی اور جنگ کے باوجود فوجی سامان کی درآمد مکمل طور پر نہیں رکی۔ ریکارڈ کے مطابق، مارچ 2026 میں ماہانہ درآمدات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 47 فی صد کم ہو کر 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئیں، تاہم مئی تک بڑھ کر 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔

جون 2026 میں روس سے 19 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈیٹونیٹرز کی کھیپ پہنچی۔ یہ 2025 کے آغاز سے روس کی جانب سے آنے والی ایسی پانچ کھیپوں میں آخری تھی، جن کی مجموعی مالیت 76 لاکھ ڈالر تھی۔ ڈیٹونیٹرز دھماکا خیز مواد، بشمول میزائلوں اور ڈرونز کے وارہیڈز، کو پھاڑنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

درآمدات میں یورپی یونین سے آنے والا سامان بھی شامل تھا، حالاں کہ یورپی یونین نے ایران کی وزارتِ دفاع پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ریکارڈ میں جرمنی اور یورپی یونین کے دیگر ممالک سے آنے والے سیکڑوں ملین ڈالر مالیت کے ٹرک، طیاروں کے انجنوں کے پرزے اور الیکٹرانکس درج تھے، جن میں 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے ایویکو ٹرک شامل تھے۔ ان دستاویزات پر بھی ایم او ڈی (MOD 346428) کا نام درج تھا۔

’رائٹرز نے واضح کیا کہ تمام درآمدی ریکارڈ میں سامان کی مکمل تفصیل موجود نہیں تھی۔ بعض صورتوں میں خبر رساں ادارے نے کسٹمز کوڈ کی بنیاد پر سامان اور اس کے ملکِ اصل کی شناخت کی، جس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔

یورپی یونین کے ترجمان نے کہا کہ پابندیوں کے نفاذ کی ذمہ داری رکن ممالک پر ہے۔ ان کے مطابق، یورپی یونین ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام میں اضافے سے متعلق معلومات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ جرمنی اور اٹلی کی حکومتوں نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

فوجی نیٹ ورک اور ایرانی ریاستی اداروں کے روابط

ایران کی معیشت کا بڑا حصہ نیم سرکاری فاؤنڈیشنوں کے زیرِ انتظام ہے، جنہیں بنیاد کہا جاتا ہے اور جنہیں ملک کی بااثر شخصیات چلاتی ہیں۔ ان میں سے کئی فاؤنڈیشنیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد شاہی خاندان اور نئی حکومت کے مخالف سمجھے جانے والے افراد کے ضبط شدہ اثاثوں سے قائم کی گئی تھیں۔

’رائٹرز‘ کی 2013 کی تحقیق اور امریکی پابندیوں سے متعلق متعدد دستاویزات کے مطابق، یہ فاؤنڈیشنیں ایرانی اشرافیہ کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور وفادار افراد کو مالی و انتظامی سرپرستی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ امریکا اور یورپ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ان میں سے بعض ادارے ایرانی شہریوں کے خلاف ریاستی جبر میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ان میں سے ایک فاؤنڈیشن، جو مقدس دفاع کی اقدار اور آثار کے تحفظ و اشاعت کے لیے قائم کی گئی، اس بات کی مثال ہے کہ ایم او ڈی نیٹ ورک ایران کی معیشت اور ریاستی نظام میں کس حد تک پھیلا ہوا ہے۔

’رائٹرز‘ کے جائزہ لیے گئے کئی برسوں کے دستاویزات میں اس فاؤنڈیشن اور کم از کم دو ایم او ڈی اداروں کے درمیان درآمدات کے علاوہ اندرونِ ملک رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔

اس فاؤنڈیشن کی ذمہ داریوں میں حکومت کے بیان کردہ مزاحمت، قربانی، جہاد اور شہادت کے تصور کو فروغ دینا شامل ہے۔ وکی ایران کے ریکارڈ کے مطابق، 2017 میں اس فاؤنڈیشن نے الیکٹرانکس اور ریفریجریشن یونٹس کی چار کھیپیں وصول کیں۔ ان کھیپوں پر درج شناختی نمبر بھی ایم او ڈی سے مطابقت رکھتا تھا۔

یہ واضح نہیں کہ فاؤنڈیشن نے ان اشیا کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم اس کی قیادت میں ایران کے تمام 31 صوبوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر شامل ہیں۔ صوبہ خوزستان میں ان میں بریگیڈیئر جنرل حسن شاہوارپور بھی شامل ہیں، جو طویل عرصے سے اس علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کے خصوصی دستوں کے کمانڈر رہے ہیں۔

شاہوارپور نے ’رائٹرز‘ کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ امریکی پابندیوں سے متعلق ایک دستاویز کے مطابق، 2019 میں مہشہر میں گیس کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے دوران شاہوارپور کی کمان میں موجود یونٹوں نے کم از کم 100 شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، سیکیورٹی اہلکاروں نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کو بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے گھیر کر ان پر مشین گنوں سے فائرنگ کی۔

ایک مقامی انسانی حقوق کے کارکن نے بتایا کہ اس نے ان ہلاکتوں کو دیکھا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے بعد میں کماد کے ان کھیتوں کو آگ لگا دی جہاں بعض مظاہرین چھپے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کارکن نے بھی اس بیان کی تائید کی۔

امریکا نے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 2020 میں شاہوارپور پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے بعد ایک نمایاں مذہبی رہنما نے ایک تقریب کے دوران ان کے سر پر بوسہ دیا اور پابندیوں کو ’’باعثِ فخر‘‘ قرار دیا۔

’رائٹرز‘ کے جائزہ لیے گئے ایک دستاویز کے مطابق، 2021 میں شاہوارپور نے خوزستان میں پاسدارانِ انقلاب کی نئی عمارت کے لیے سرکاری اسٹیل کمپنی سے 50 ارب ریال مانگے تھے، جو اس وقت سرکاری شرحِ مبادلہ کے مطابق 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ بنتے تھے۔ رقم جس اکاؤنٹ میں منتقل کی جانی تھی، اس کے کاغذات پر ایم او ڈی 424000 درج تھا اور دستاویز پر شاہوارپور کے دستخط بھی تھے۔

واضح رہے کہ حسن شاہوارپور ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے بریگیڈیئر جنرل ہیں، جو صوبہ خوزستان میں پاسدارانِ انقلاب کے علاقائی دستے کے کمانڈر رہے ہیں۔ یورپی یونین کی دستاویزات کے مطابق، وہ 2009 سے اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔

رواں سال کے احتجاج اور گلابی شاہد ڈرون

دو کارکنوں کے مطابق، رواں سال کے آغاز میں شاہوارپور کے ماتحت اہلکاروں نے خوزستان میں ہونے والے نئے مظاہروں کو بھی کچلا۔ یہ احتجاج ایران کی معاشی بدحالی کے خلاف ملک گیر تحریک کا حصہ تھے۔

کارکنوں کا کہنا تھا کہ خوزستان میں انہوں نے 46 ہلاک افراد کے نام درج کیے، جن میں سے بیشتر 8 اور 9 جنوری کو مارے گئے، جب ان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔

رواں سال کی ایک فوجی پریڈ کی سرکاری ویڈیو میں حسین شاہوارپور کے دستوں کو خوزستان کے ایک قصبے سے گزرتے ہوئے سفید ٹویوٹا ٹنڈرا گاڑیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ اسی قسم کی گاڑیاں ہیں جو ایم او ڈی نیٹ ورک کے ذریعے درآمد کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ٹرک پر گلابی رنگ کا شاہد ڈرون لدا ہوا تھا۔

’رائٹرز‘ کی تحقیق میں ایران کے فوجی اداروں کے درآمدی نظام اور پابندیوں سے بچنے کے مبینہ طریقوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم بعض درآمدات کے اصل استعمال اور ان کے فوجی مقاصد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران سے متعلق اداروں اور کمپنیوں نے ’رائٹرز‘ کے سوالات کا جواب نہیں دیا، جب کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کا مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ متعدد درآمدی اشیا صنعتی اور فوجی، دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles