
یورپ کے جدید ریلوے نظام میں تیز رفتار ٹرینوں کو محفوظ سفر کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن اسپین میں تیز رفتار ٹرینوں کے حادثات نے ریلوے نظام کی حفاظت، جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رواں سال ملک میں پیش آنے والے ریلوے حادثات کے سلسلے میں تازہ واقعے نے خاص طور پر اس بات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق اسپین میں بدھ کے روز دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں 68 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثہ ٹولیڈو صوبے کے قصبے اُردا کے قریب پیش آیا، جہاں میڈرڈ سے سیویل جانے والے تیز رفتار ریلوے ٹریک پر ایک ٹرین نے دوسری ٹرین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں کمپیوٹر نظام کی خرابی اور بظاہر انسانی غلطی کو حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات ابھی باقی ہیں۔
اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے کے مطابق ریلوے کے حفاظتی نظام میں خرابی کے باعث متاثرہ علاقے میں ٹرینوں کی آمدورفت رک گئی تھی۔ بعد ازاں نظام کو دستی طور پر کنٹرول کرنے اور ایک ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے دوران سنگین غلطی سامنے آئی، جس کے نتیجے میں ایک ٹرین رکی ہوئی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔
حادثے کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق اسپین کے قومی ریلوے ادارے ”رینفے“ کی ایک تیز رفتار ٹرین نجی کمپنی ”ایریو“ کی کھڑی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ دونوں ٹرینیں میڈرڈ سے سیویل کی جانب سفر کر رہی تھیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے بتایا کہ ریلوے ٹریک کے 63 کلومیٹر، یعنی تقریباً 40 میل طویل حصے میں ٹرینوں کی نگرانی اور حفاظت کے لیے استعمال ہونے والے ایل زیڈ بی نظام میں خرابی پیدا ہوئی۔ اس نظام کی ذمہ داری ٹرینوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنا اور ریلوے لائن پر محفوظ آمدورفت یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔
خرابی کے نتیجے میں متعلقہ علاقے میں تمام ٹرینیں خودکار طور پر رک گئیں۔ اس کے بعد اسپین کے ریلوے نیٹ ورک کا انتظام سنبھالنے والے سرکاری ادارے اے ڈی آئی ایف نے نظام کا کنٹرول مینوئیل طور پر سنبھال لیا۔
پوینتے کے مطابق اسی مرحلے پر فیصلہ کیا گیا کہ رینفے کی تیز رفتار ٹرین کو جنوب کی جانب سفر جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، حالانکہ سگنل سرخ تھا اور اس کا مطلب تھا کہ ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ٹرین کے ایک کنٹرولر کی جانب سے غلط حکم جاری ہونے کے باعث رینفے کی ٹرین کو بغیر کسی رفتار کی پابندی کے آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 36 منٹ سے 8 بج کر 52 منٹ کے درمیان ٹرین نے دوبارہ سفر شروع کیا اور تقریباً 124 میل فی گھنٹہ، یعنی 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے لگی۔ بالآخر یہ ٹرین ایریو کی رکی ہوئی ٹرین سے ٹکرا گئی۔
پوینتے نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سگنل سرخ تھا اور آگے بڑھنے کی ممانعت تھی، اس کے باوجود ٹرین کو روانہ ہونے کی اجازت دی گئی۔ ان کے بقول یہ فیصلہ ایسے حالات میں کیا گیا جن کی وضاحت کرنا مشکل ہے۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 24 افراد رینفے کی ٹرین میں سوار تھے، جبکہ 44 افراد ایریو کی ٹرین میں موجود تھے۔
حادثے کے بعد اسپین کے ریلوے نظام کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تجارتی یونین سی ایس آئی ایف نے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیر نے مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور حفاظتی نظام کی خامیاں دور کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
رواں سال اسپین میں یہ تیسرا مہلک ریلوے حادثہ ہے۔ جنوری میں قرطبہ کے علاقے آداموز کے قریب ٹرین حادثے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اسی ماہ بارسلونا کے قریب ٹرین پٹری سے اترنے سے ڈرائیور ہلاک اور درجنوں مسافر زخمی ہوئے تھے۔
تازہ حادثے کی تحقیقات میں خاص طور پر یہ جانچنا ہوگا کہ حفاظتی نظام میں خرابی کیسے پیدا ہوئی، سرخ سگنل کے باوجود ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت کیوں دی گئی اور دستی یا مینوئیل کنٹرول کے دوران حادثے کو روکنے کے لیے کون سے حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے تھے۔ تحقیقات کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ واقعے میں تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کا کیا کردار تھا اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔