
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں قطری ثالثوں نے ایران کو ایک نیا مسودہ معاہدہ پیش کر دیا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مسودے میں اعتماد سازی اور تہران و واشنگٹن دونوں کے خدشات دور کرنے کے لیے 7 دن کا ایک روزانہ کی بنیاد پر عملی لائحہ عمل شامل ہے، جس پر عمل درآمد اگلے ہفتے کے اوائل سے شروع ہو سکتا ہے اور متعدد ممالک اس معاہدے کے ضامن ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ ایران رواں ہفتے کے اختتام تک اس تجویز پر اپنا حتمی جواب دے گا۔
اسی اثنا میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی سے رابطہ کیا ہے اور انہیں امن مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے خط بھیجا ہے۔
امریکی حکام کا یہ غیر معمولی رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ شدید عسکری کارروائی شروع کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے بھی سفارتی عمل کو کامیابی کا موقع دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا کو بتایا کہ تہران اپنے امن منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالثوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور 7 روزہ امن منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں عالمی توانائی کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ایران جنگ اور امن کے درمیان پائی جانے والی غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد قطر نے ثالثی کا کردار مزید تیز کر دیا ہے۔
علاوہ ازیں، خطے کی سیاسی و عسکری صورتِ حال پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت آبنائے ہرمز اور یمن تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ترک صدر نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھی دونوں ممالک کے مابین سفارتی عمل کی بحالی کی حمایت کا اعادہ کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر پائیدار امن قائم ہو سکے۔