یورپ میں جنریشن زی کے نوجوان مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی اداروں کی خراب صورت حال، بدعنوانی اور رہائش کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، جب کہ سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے انتخابی سیاست میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل رہی ہے۔ پیرس کے مضافات سے بلغراد کے چوراہوں تک ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ان کے مطالبات میں مہنگائی پر قابو پانا، بہتر تعلیمی سہولتیں، روزگار کے مواقع، سستی رہائش اور بدعنوانی کا خاتمہ شامل ہے۔
احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فرانس میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں دکانوں کو نقصان پہنچنے یا لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئیں، جب کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور اسٹن گرینیڈز استعمال کیے۔
جنریشن زی (جین زی) کی اصطلاح عموماً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پیرس کے مضافات سے سربیا کے دارالحکومت بلغراد تک ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، فرانس میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں لوٹا گیا، جب کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور اسٹن گرینیڈز کا استعمال کیا۔
یہ تحریکیں صرف یورپ تک محدود نہیں۔ بنگلہ دیش میں 2024، نیپال میں 2025 اور بھارت میں رواں سال نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی سرگرمیاں سامنے آئیں، جب کہ اب یورپ اس تحریک کا اہم مرکز بن گیا ہے۔
یورپ میں جاری احتجاجی تحریکوں کے دوران سربیا میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد الیگزینڈر ووچچ کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، تقریباً دو سال سے جاری احتجاج میں مظاہرین مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔
طلبہ مظاہرین میں شامل ستاشا پیلیٹچ کا ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کہ انتخابی نتیجے کے بعد انہیں سب سے پہلے راحت اور آزادی کا احساس ہوا۔ ان کے بقول، وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اب احتجاج سے آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے۔

تاہم، تحریک کے سامنے اب حکومت چلانے کا چیلنج ہے۔ طلبہ اور ان کے امیدواروں کو حکومتی امور چلانے کا تجربہ حاصل نہیں۔ ایک اور مظاہرین لوکا اسٹویاکووچ نے اس خدشے کے جواب میں کہا کہ وہ دیکھ چکے ہیں کہ سیاسی تجربہ رکھنے والے افراد ملک کو کس مقام پر لے آئے ہیں۔
اٹلی کے شہر میلان میں احتجاج کرنے والی 21 سالہ طالبہ چیرا کے مطابق، عوامی غصے سے جنم لینے والی خود رو تحریکوں میں حصہ لینا ضروری ہے، کیونکہ اسی غصے نے لوگوں کو اجتماعی طور پر متحرک کیا۔
چیرا نے کہا کہ حکمران طبقے نے ان کی نسل کو جو نقصان پہنچایا ہے، اس میں مستقبل کا تصور کرنے اور خواب دیکھنے کی صلاحیت چھین لینا بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق، اطالوی طلبہ ایسے تعلیمی نظام کا سامنا کر رہے ہیں جہاں اساتذہ کی کمی اور عمارتوں کی خستہ حالی جیسے مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو ایسی ملازمتیں ملنے کا خدشہ ہے جن کی تنخواہیں کم ہوں گی اور جن کے لیے ان کی تعلیم موزوں نہیں ہوگی۔ دوسری جانب، انہیں چھوٹے اور مہنگے گھروں میں رہنے یا اپنے پسندیدہ شہر سے دور منتقل ہونے کا امکان بھی پریشان کرتا ہے۔

یہ شکایات نوجوانوں کی معاشی مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب روزگار، رہائش اور بہتر معیارِ زندگی حاصل کرنے کی دشواریاں نمایاں ہیں۔
یورپی یونین کے 2025 میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق، 16 سے 30 سال کی عمر کے 40 فی صد افراد کے لیے بڑھتی قیمتیں اور اخراجاتِ زندگی اہم تشویش ہیں۔
اسی سال یورپی یونین میں 9 کروڑ 27 لاکھ افراد کو غربت یا سماجی محرومی کے خطرے کا سامنا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق، 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ خطرہ 26.3 فیصد تھا، جو مختلف عمر کے گروہوں میں سب سے زیادہ شرح تھی۔ اس کے مقابلے میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح 18.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
نوجوانوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ انہیں عمر رسیدہ نسل کے مالی اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو عموماً انتخابات میں زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالتی ہے۔ فرانس میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد آبادی کا ایک چوتھائی ہیں، لیکن تھنک ٹینک او ایف سی ای کے مطابق ملک کی 60 فی صد دولت ان کی ملکیت ہے۔
فرانس میں پنشن پر سرکاری اخراجات بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، عمر رسیدہ آبادی کے باعث پنشن پر خرچ ملکی معیشت کے حجم کے تقریباً 14 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود ووٹرز ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے یا پنشن کی سہولتیں کم کرنے کی تجاویز کی مخالفت کرتے ہیں۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، یونان اور اٹلی اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 16 فی صد عوامی پنشن پر خرچ کرتے ہیں، جب کہ آسٹریلیا، چلی، آئس لینڈ، آئرلینڈ اور جنوبی کوریا میں یہ تناسب 4 فی صد سے کم ہے۔
فرانسیسی حکومت کی اکتوبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 2000 سے 2023 کے دوران پنشن اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے 2.5 فی صد پوائنٹس بڑھے، جب کہ تعلیم پر اخراجات کا تناسب 0.5 فیصد پوائنٹ کم ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارتِ تعلیم کے بجٹ کا 32 فی صد پنشن کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے، جس سے تعلیم کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب رقم محدود ہوتی ہے۔
پیرس کے شمالی مضافات میں رہنے والے 17 سالہ طالب علم بلال نرجیسی بھی اپنے اسکول کی خراب حالت اور عملے کی کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اسکول میں پہلے چوہے موجود تھے، جب کہ گزشتہ سال صحن کی چھت گرنے کے بعد طلبہ کو وہاں سے نکالنا پڑا تھا۔ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
بلال نے بتایا کہ احتجاج نے ظاہر کیا ہے کہ یورپ کے نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں۔ ان کے مطابق، نوجوان اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں بہت زیادہ بچوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور ان کی بات نہیں سنی جاتی۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں احتجاج کرنے والی 19 سالہ طالبہ مایا گوردیل بھی بہتر تعلیمی سہولتوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وہ ایک میز پر اپنے ملک کے حکمرانوں کے خلاف نعرے لکھ رہی تھیں۔
ان میں ایک نعرہ، ’’اگر ہم جلیں گے تو تم بھی ہمارے ساتھ جلو گے‘‘، 2012 کی فلم دی ہنگر گیمز سے لیا گیا ہے اور دنیا بھر کی متعدد نوجوان تحریکوں میں علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
مایا کا کہنا ہے کہ طلبہ نے پہلے پُرامن انداز میں اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی، مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ ان کے مطابق، میڈیا اور کیمروں نے اس وقت توجہ دینا شروع کی جب بعض مظاہرین نے کچرا جلانا شروع کیا۔
اسی طرح البانیہ میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت کے خلاف شروع ہوئے اور دارالحکومت تیرانا سے دوسرے شہروں تک پھیل گئے۔ احتجاج کی وجوہات میں مبینہ بدعنوانی، روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیم کے ناقص معیار پر غصہ شامل ہے۔
19 سالہ آرکیٹیکچر کی طالبہ زائکے کرتی نے کہا کہ وزیراعظم نے 130 دن تک نوجوانوں کی بات نہیں سنی۔ ان کے مطابق، اگر البانیہ کے کسی طالب علم سے پوچھا جائے کہ وہ اپنا مستقبل کہاں دیکھتا ہے تو جواب اکثر ملک سے باہر جانے کی صورت میں ملتا ہے۔

زائکے کرتی نے کہا کہ ان کے خیال میں ملک میں صلاحیت رکھنے کے باوجود روابط رکھنے والے افراد کو ترجیح ملتی ہے، جس سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق، یورپ میں نوجوانوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور جرمنی میں ہفتے کے اختتام پر مظاہرے طے کیے گئے ہیں۔ ان میں مہنگائی، معاشی عدم مساوات، جنگ اور تعلیمی اداروں کی صورت حال جیسے معاملات پر آواز اٹھائی جائے گی۔
فرانس، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں نوجوانوں کی شکایات مختلف ضرور ہیں، لیکن ان میں مشترکہ موضوعات نمایاں ہیں، مثلا بہتر تعلیم، روزگار کے مناسب مواقع، قابلِ برداشت رہائشی اخراجات، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی آواز کو اہمیت دینا۔
سربیا میں طلبہ تحریک کی انتخابی کامیابی نے ان احتجاجوں کو ایک سیاسی نتیجہ بھی دیا ہے، تاہم دیگر ممالک میں نوجوانوں کے مطالبات پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
حالیہ دنوں میں یورپ کے مختلف ممالک میں جنریشن زی کے احتجاج کے دوران کئی مقامات پر پُرامن مظاہرے ہنگامہ آرائی اور پولیس سے جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، فرانس میں 24 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے، تاہم دن کے اختتام پر پیرس، مارسیل اور دیگر شہروں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

مظاہرین نے دکانوں کو نقصان پہنچایا اور بعض مقامات پر لوٹ مار کی، جب کہ پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق، ملک گیر مظاہروں کے سلسلے میں 25 اکتوبر تک 1,314 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 53 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ اس سے پہلے والے ہفتے میں تقریباً 3 ہزار کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں لوٹا گیا تھا۔
اٹلی میں بھی احتجاج کے دوران گرفتاریاں اور عارضی حراستیں عمل میں آئیں۔ پولیس کے مطابق، 24 اکتوبر کو آٹھ شہروں میں مظاہروں کے سلسلے میں 9 افراد کو گرفتار اور 371 کو مختصر مدت کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں 110 نابالغ تھے۔
میلان میں دکانوں کو نقصان پہنچنے اور پولیس سے جھڑپوں کے خدشات کے پیش نظر سیکیورٹی بڑھائی گئی اور اضافی فوجی تعینات کیے گئے۔ البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو آگ لگانے، دکانوں کے شیشے توڑنے اور سڑکوں سے پتھر اکھاڑ کر پولیس پر پھینکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ تاہم، دستیاب رپورٹس میں البانیہ میں ان مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والوں اور زخمیوں کی مجموعی تعداد واضح نہیں کی گئی۔
ان مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ، دکانوں میں لوٹ مار، پولیس سے جھڑپوں، گرفتاریوں اور اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات سامنے آئے۔ یورپ میں مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیم اور بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والی جین زی کی یہ تحریک کیا آنے والے دنوں میں مزید پھیلے گی اور حکمرانوں کو نوجوانوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکے گی؟