
وزارت اطلاعات و نشریات نے پاک افغان سرحد پر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے مقام پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق افغان طالبان کے بیان کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
بدھ کے روز وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ انگور اڈہ سرحدی واقعے سے متعلق افغان طالبان کا مؤقف حقائق کے منافی ہے، افغان طالبان فورسز نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولے برسائے۔
وزارت اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان فورسز کی کارروائی بھارت کی ہدایات اور اس کے پراکسی عناصر کے طے کردہ طریقہ کار کا تسلسل ہے۔
وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی فائرنگ کا فوری اور بھرپور جواب دیا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان فورسز کی 7 پوسٹیں تباہ ہوئیں جب کہ انہیں بھاری جانی اور مادی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرکاری ترجمانوں کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے غلط معلومات کا سہارا لے رہے ہیں، سرحدی واقعے، افغان پوسٹوں کی تباہی، نقصانات اور بھارت سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی جب کہ افغان فریق کا تفصیلی مؤقف بھی دستیاب نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز 27 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا واقعہ پیش آیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ شہری آبادی میں واقع ایک گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے جب کہ واقعے کے بعد مقامی آبادی میں تشویش پائی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستانی فورسز نے فائرنگ کا فوری جواب دیا اور جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔