اسپین میں 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان خوفناک تصادم، ہلاکتیں 68 ہوگئیں

اسپین میں 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، حادثے کے بعد میڈرڈ سے اندلس جانے والی تیز رفتار ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی جب کہ وزیراعظم نے اپنی تمام سرکاری مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپین کے وسطی علاقے تولیڈو میں بدھ کی صبح 2 تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے۔ حادثہ دارالحکومت میڈرڈ سے جنوبی علاقے اندلس کی جانب جانے والی ریلوے لائن پر پیش آیا جب کہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے کچھ دیر بعد پیش آیا۔

حادثے سے متعلق معلومات رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ نجی کمپنی آئیریو کی ٹرین سگنل میں خرابی کے باعث تولیڈو کے قریب رک گئی تھی جب کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی نگران کمپنی ایڈیف کی ہدایت پر ٹرین کو روکا گیا تھا۔ اسی دوران سرکاری ریلوے کمپنی رینفے کی ایک تیز رفتار ٹرین رکی ہوئی آئیریو ٹرین سے ٹکرا گئی اور تصادم کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کی متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

کاسٹیلا لا مانچا کی علاقائی حکومت کی ترجمان ایسٹر پڈیلا کے مطابق آئیریو کی ٹرین میں 147 جب کہ رینفے کی ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے جب کہ حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں حکام نے فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔

علاقائی صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکن ملبے میں مزید افراد کو تلاش کر رہے ہیں، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حادثے کے وقت ایک ٹرین کے پچھلے ڈبے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر میگوئل نے بتایا کہ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی۔ ان کے مطابق تقریباً 10 سیکنڈ تک شدید دھماکے جیسی آواز آتی رہی اور ایسا محسوس ہوا جیسے ٹرین پٹڑی سے اترنے والی ہو۔ انہوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک ٹرین تباہ شدہ حالت میں دکھائی دی۔

آئیریو کی ٹرین میں سوار خاتون مسافر ایڈوارڈا نے بتایا کہ تصادم کے دوران شدید جھٹکا لگا، جس سے وہ آگے کی جانب گر پڑیں۔ ابتدا میں انہیں لگا کہ ٹرین نے ہنگامی بریک لگائی ہے تاہم زخمی افراد کو دیکھنے اور ٹرین خالی کرنے کی ہدایت ملنے کے بعد انہیں حادثے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

خاتون کے مطابق وہ ڈھلوان سے نیچے اتر کر محفوظ مقام پر پہنچیں تو ٹرین کی ایک بوگی ڈھلوان کی جانب لٹکی ہوئی تھی اور ایک بوگی میں آگ لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20 منٹ کے اندر ہیلی کاپٹر، پولیس اور ایمبولینسوں سمیت امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں۔ ان کے مطابق انہوں نے جائے وقوع پر لاشیں بھی دیکھیں۔

قریبی قصبے لاس ییبینیس کے میئر جیسس پیریز مارٹن نے صورت حال کو انتہائی ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شدید زخمی ہونے اور جسمانی اعضا کٹنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے متاثرہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کردیں۔ زخمیوں کو علاقے کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جب کہ محفوظ رہنے والے مسافروں کو بسوں کے ذریعے جائے وقوع سے نکالا گیا۔

اسپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی تاکہ زخمیوں کے علاج میں مدد مل سکے۔

حادثے میں متاثر ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی سہولت کے لیے رینفے نے خصوصی ہیلپ لائن قائم کرنے کا اعلان کیا اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی۔ آئیریو نے بھی ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کرنے کی تصدیق کی۔

قریبی قصبے اردا کے میئر مینوئل گالان کے مطابق امدادی اداروں نے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرکے زخمیوں اور متاثرہ مسافروں کی عارضی رہائش کے لیے اسپورٹس ہال سمیت ہنگامی سہولتیں تیار رکھنے کی درخواست کی تھی۔

حادثے کے بعد میڈرڈ، سیوداد ریئل اور اندلس کے درمیان ٹرین سروس معطل کردی گئی۔ امدادی کارروائیوں میں فوج کے ایمرجنسی یونٹ، فائر فائٹرز، پولیس، ایمبولینسوں اور طبی ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کے بعد اپنی مصروفیات منسوخ کردیں اور امدادی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں حادثے پر صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے بھی حادثے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بھی ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

حادثے کے باعث اسپین کی فٹ بال فیڈریشن نے بدھ کو شیڈول کوپا ڈیل رے کے تمام 24 میچز ملتوی کردیے۔ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حادثے کے بعد اپنی انتخابی مہم کی تمام سرگرمیاں منسوخ کردیں۔ یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسپین میں 29 نومبر کو انتخابات ہونے والے ہیں۔

اسپین میں اسی ریلوے لائن پر رواں سال جنوری میں بھی 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں 46 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوبی اسپین کے صوبے قرطبہ میں آدموز کے قریب پیش آنے والے اس حادثے میں آئیریو کی ٹرین پٹڑی سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی رینفے کی ٹرین سے ٹکرا گئی تھی۔ تصادم کے نتیجے میں متاثرہ ٹرین کی ابتدائی دو بوگیاں تقریباً چار میٹر گہری ڈھلوان پر جاگری تھیں۔ جنوری کا حادثہ 2013 کے بعد اسپین میں ٹرین کا سب سے مہلک حادثہ تھا جب کہ 2013 میں ٹرین حادثے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنوری کے حادثے کے بعد اسپین میں ریلوے لائنوں کی دیکھ بھال اور ان پر سرمایہ کاری کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی تھی تازہ حادثہ بھی اسی تناظر میں ریلوے نظام کی حفاظت اور دیکھ بھال سے متعلق سوالات کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے۔

اسپین کے ریلوے سیفٹی ادارے کے مطابق ملک میں ٹرینوں کے تصادم اور پٹڑی سے اترنے سمیت مختلف ریلوے حادثات کی تعداد 2016 میں 45 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 57 اور گزشتہ سال 69 ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ریلوے پٹڑیوں میں خرابی اور ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل بھی رپورٹ ہوئے تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان مسائل کا حالیہ حادثے سے براہ راست تعلق ہے۔

رائٹرز کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں اسپین میں تقریباً ڈھائی کروڑ مسافروں نے تیز رفتار ٹرینوں پر سفر کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد کم تھا۔

یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اسپین نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک پر سالانہ اوسطاً تقریباً ڈیڑھ ارب یورو خرچ کیے تاہم اس رقم کا بڑا حصہ نئی ریلوے تنصیبات کی تعمیر پر صرف ہوا جب کہ تقریباً 16 فیصد رقم پٹڑیوں کی دیکھ بھال، تجدید اور بہتری کے لیے مختص کی گئی۔

اسپین میں تقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل تیز رفتار ریلوے لائنیں موجود ہیں۔ ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے باوجود یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان لائنوں کی دیکھ بھال پر ہونے والے اخراجات بعض بڑے یورپی ممالک کے مقابلے میں کم رہے ہیں۔

اس کے باوجود اسپین میں ٹرینوں کے حادثات میں ہلاکتوں کی شرح 2024 تک یورپی یونین کے کم ترین درجوں میں شامل تھی۔ یورپی ریلوے ایجنسی کے مطابق اسپین کے 90 فیصد سے زیادہ ریلوے نیٹ ورک پر اعلیٰ سطح کے حفاظتی کنٹرول نظام نصب ہیں۔

اسپین نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تیز رفتار ریلوے نظام پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک میں تیز رفتار ٹرینوں کے لیے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل پٹڑیاں موجود ہیں جب کہ چین کے بعد اسپین دنیا کے سب سے بڑے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک والے ممالک میں شامل ہے۔

حالیہ برسوں میں اسپین نے سرکاری کمپنی رینفے کے علاوہ نجی کمپنیوں کو بھی مسافر ٹرینیں چلانے کی اجازت دی۔ اطالوی ملکیت والی کمپنی آئیریو نے 2022 میں اسپین میں اپنے آپریشنز شروع کیے تھے۔

اسپین کی ٹرین ورکرز یونین کے ترجمان جون روڈریگز نے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی کمپنیوں کی آمد کے بعد ریلوے نیٹ ورک پر ٹرینوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ریلوے نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے استعمال کو حالیہ حادثات کی حتمی وجہ قرار نہیں دے رہے۔ حکام کی جانب سے تازہ حادثے کی اصل وجہ کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles