اسرائیلی انتخابات میں 53 برس بعد ریکارڈ ٹرن آؤٹ؛ نیتن یاہو کو عرب ووٹرز سے خوف

اسرائیل میں منگل کے روز عام انتخابات میں ووٹرز کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث ریکارڈ ٹرن آؤٹ سامنا آیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ فلسطینی شہریوں کے بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رُخ کرنے کی اطلاعات کے بعد نیتن یاہو اور ان کے حامیوں نے اپنے ووٹرز سے بھی باہر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات کے دوران صبح سات بجے شروع ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح (ٹرن آؤٹ) نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق صرف ابتدائی سات گھنٹوں میں ہی اہل ووٹرز میں سے 44.9 فیصد اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، جو کہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے تک 55.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق شام 4 بجے تک مجموعی طور پر 40 لاکھ 85 ہزار 75 ووٹرز اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ گزشتہ عام انتخابات میں اس وقت تک ووٹنگ کی شرح 47.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

پارلیمان میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار

انتخابات میں 73 لاکھ سے زیادہ اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ان انتخابات کے ذریعے 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے ارکان کا انتخاب منتخب ہوں گے۔

اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ملک کے پہلے عام انتخابات ہیں جو ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب نیتن یاہو کرپشن مقدمات کے علاوہ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ، ایران جنگ سمیت مختلف پالیسیوں پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

عرب اسرائیلی ووٹرز کی اہمیت

انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ کے علاوہ نیتن یاہو کے حمایت یافتہ اور مخالف اتحاد کی نظریں عرب جماعتوں اور ان کے ووٹرز پر مرکوز ہیں اور نئی حکومت کی تشکیل میں فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کا کردار بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سوشل میڈیا پر مسلسل ایسی پوسٹس شیئر کررہے ہیں جس میں وہ عرب ووٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے حامیوں سے گھروں نکلنے اور ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے نظر آرہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ ہمیں ووٹنگ کی شرح بلند رکھنی ہوگی۔ آپ سب کو پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنا چاہیے۔‘

ایک اور ویڈیو میں گھوڑوں پر سوار عرب اسرائیلی شہریوں کی ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’وہ پہلے ہی جشن منا رہے ہیں۔ ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔‘

اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ عرب آبادی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے گڑھ سمھے جانے والے علاقوں میں ووٹرز کی الیکشن کے عمل میں غیر معمولی دلچسپی ٹرن آؤٹ میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔

دوسری جانب عرب رکنِ پارلیمان احمد طیبی نے بھی ووٹرز کی غیر معمولی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے انتخابات میں اپنی جماعت کی مضبوط کارکردگی کی امید ظاہر کی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’پولنگ اسٹیشنوں پر پہلے کبھی اس قدر رش نہیں دیکھا گیا، مجھے یقین ہے کہ ہم بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔‘

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عرب سیاسی جماعتیں اور اپوزیشن رہنما ووٹرز کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں حکومتی اتحاد یا اپوزیشن کو واضح اکثریت ملنا مشکل قرار دیا جارہا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں عرب جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عرب اسرائیلی شہریوں کا بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کرنا حکومت سازی میں اہمیت کے علاوہ نیتن یاہو کے حامی اتحاد کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے قائم اپوزیشن اتحاد کو بھی حکومت سازی کے لیے عرب جماعتوں کی لازمی حمایت درکار ہونے کا بھی امکان ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتائج نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ اسرائیل میں اگلی حکومت کس نوعیت کے اتحاد کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles