
سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا، تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے، بدعنوانی ختم کرنے اور معیشت کو سنبھالنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس تحریک کا آغاز 2024 میں شمالی شہر نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی چھت کا حصہ گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ طلبہ نے واقعے کے ذمہ داروں کے احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا۔
طلبہ نے انتخابات میں نمائندگی کے لیے ماہرین تعلیم، وکلا، ڈاکٹرز، اداکاروں، کسانوں اور موسیقاروں سمیت 250 افراد کا انتخاب کیا۔ تحریک نے سرکاری اداروں میں اصلاحات، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو اپنی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ نئی حکومت کی قیادت کون کرے گا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار مشترکہ پالیسیوں پر کس طرح متفق ہوں گے۔ بلغراد یونیورسٹی کی پروفیسر کترینا پوپوویچ نے کہا کہ طلبہ کی تحریک نے سربیا کے سیاسی اور سماجی ماحول میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔
سربیا کے آئین کے مطابق حتمی انتخابی نتائج کے اعلان اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلائے جانے کے بعد کامیاب امیدواروں کو حکومت بنانے کے لیے 90 دن ملیں گے۔ نئی حکومت کو سال کے اختتام سے پہلے بجٹ بھی منظور کرنا ہوگا، جبکہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور عدالتی نظام میں اصلاحات کرنا بھی ضروری ہوگا۔
بلغراد کے وکیل اور سابق نائب وزیر داخلہ بوزو پریلیوچ نے کہا کہ الیگزینڈر ووچک کے 14 سالہ دور کے بعد سرکاری اداروں کو بدعنوانی اور دیگر مسائل سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ووچک کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی نئی حکومت کے لیے ایک مضبوط سیاسی مخالف ثابت ہوگی۔ دوسری جانب ووچک اور ان کی جماعت بدعنوانی اور سیاسی دباؤ کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
خارجہ پالیسی بھی نئی حکومت کے لیے اہم معاملہ ہوگی۔ روس سربیا کا روایتی اتحادی اور قدرتی گیس فراہم کرنے والا اہم ملک ہے، جبکہ یورپی یونین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ طلبہ کی تحریک کے نمائندے یووو باکچ نے کہا کہ روس کے ساتھ سربیا کے تعلقات برقرار رہیں گے اور ماسکو کے خلاف پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔
یورپی حکام نے طلبہ کی کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ تحریک نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کی حمایت کی ہے، تاہم وہ کوسوو کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کرتی۔
طلبہ کی تحریک نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے سربیا کی سیاست میں بڑی تبدیلی پیدا کردی ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ نئی قیادت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے امیدواروں کو متحد رکھتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے، معیشت کی بہتری اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کے وعدوں پر کس حد تک عمل کر پاتی ہے۔