
بھارت میں ارب پتی کاروباری شخصیات مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت والے میڈیا اداروں سمیت 21 خبر رساں اداروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے پرائیویسی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ اس قانون سے تحقیقاتی صحافت متاثر ہوگی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 6 اکتوبر کو دائر کی گئی یہ درخواست پہلی بار رپورٹ ہوئی ہے اور اس کی سماعت منگل کو مقرر ہے۔ یہ مودی حکومت کے پرائیویسی قانون کے خلاف اب تک کا سب سے نمایاں عدالتی چیلنج ہے۔ اس سے پہلے آزادی اظہار کے حامی کارکنوں اور چند چھوٹے خبر رساں اداروں نے بھی اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
بھارتی حکومت نے گزشتہ سال ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے اس قانون پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت انٹرنیٹ پر کام کرنے والے اداروں کے لیے صارفین کی معلومات جمع کرنے اور استعمال کرنے کے حوالے سے قواعد سخت کیے گئے ہیں۔ تاہم، میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ قانون میں صحافتی اداروں کو واضح استثنیٰ نہیں دیا گیا، جس سے آزادی صحافت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بھارت کی ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (ڈی این پی اے) نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی 698 صفحات پر مشتمل درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون کی بعض شقیں تحقیقاتی صحافت کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔
درخواست کے مطابق یہ قانون تحقیقاتی صحافت کو محض واقعات ریکارڈ کرنے تک محدود کرکے اس کی اصل اہمیت ختم کردے گا۔ تنظیم نے مزید کہا کہ ان شقوں کے ذریعے خبر شائع ہونے سے پہلے ہی اس پر پابندی لگانے جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے ناقابل قبول ہے۔
ڈی این پی اے کے ارکان میں مکیش امبانی کا میڈیا گروپ نیٹ ورک 18، گوتم اڈانی کا این ڈی ٹی وی، انڈین ایکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا گروپ سے وابستہ ٹائمز انٹرنیٹ سمیت دیگر بڑے میڈیا ادارے شامل ہیں۔
درخواست میں سب سے اہم اعتراض ذاتی معلومات کے استعمال کے لیے رضامندی کی شرط پر اٹھایا گیا ہے۔ میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی صحافی کو کسی شخص کے خلاف تحقیقات کرنے سے پہلے اسے اطلاع دینا اور اس کی اجازت لینا پڑی تو متعلقہ شخص ثبوت ضائع کرسکتا ہے یا گواہوں کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔ اس طرح بدعنوانی، کاروباری بے ضابطگیوں اور انتخابی دھاندلی جیسے معاملات کی تحقیقات مشکل ہوجائیں گی۔
قانون کے تحت افراد کو اپنی رضامندی واپس لینے اور اپنی ذاتی معلومات حذف کرنے کا مطالبہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ میڈیا اداروں کے مطابق اس اختیار کے غلط استعمال سے کسی شخص کے بارے میں شائع ہونے والی درست خبر کو بھی ویب سائٹ سے ہٹانے یا اس کے اہم حصے حذف کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ قانون میں عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتیں موجود نہیں ہیں۔
میڈیا اداروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ قانون کے تحت قائم ہونے والا وفاقی ادارہ قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرسکے گا، جبکہ نئی دہلی کو عوامی مفاد کے نام پر معلومات تک رسائی روکنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق ان اختیارات کے باعث صحافیوں کے لیے حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
ڈی این پی اے نے اگست میں حکومت کو بھیجے گئے خط میں کہا تھا کہ بھارت نے ریاستی اداروں کو وسیع استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن صحافت کو اسی نوعیت کا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ تنظیم کو خدشہ ہے کہ قانون کے تحت حکومت کسی بھی ایسے ادارے سے معلومات طلب کرسکے گی جو ذاتی معلومات سے متعلق کام کرتا ہے۔ اس اختیار کے نتیجے میں نیوز رومز کو اپنے ذرائع کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے سے متعلق اس اختیار کی واضح حدود مقرر نہیں کی گئیں، جس کے باعث صحافیوں یا ان کے مخبروں کے درمیان خفیہ رابطے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
میڈیا اداروں کے مطابق اس صورت حال سے وہ افراد بھی صحافیوں کو معلومات دینے سے گریز کرسکتے ہیں جو بدعنوانی، کمپنیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں یا انتخابی بے ضابطگیوں کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
قانون کی متنازع شقوں پر عمل درآمد مئی 2027 سے شروع ہونا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان شقوں کو ختم کیا جائے۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے آزادی صحافت کی صورت حال پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی دھارے کے متعدد میڈیا ادارے حکومت کی کارکردگی پر مؤثر تنقید اور نگرانی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
مودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آزادی صحافت کا احترام کرتی ہے اور بھارت میں اخبارات اور ٹی وی چینلز سمیت میڈیا کا ایک وسیع اور فعال نظام موجود ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کی صحافتی آزادی کے جائزے کے لیے غیر ملکی اداروں کی توثیق ضروری نہیں۔
رائٹرز کے مطابق ڈی این پی اے اور متعلقہ میڈیا اداروں نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا، جبکہ بھارتی وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔