
لاہور میں عدالت نے پیٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کے کیس میں گرفتار ملزم سعادت انیس کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری فیصلے کے مطابق مدعی اور ملزم کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے۔
پولیس نے ملزم سعادت انیس کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے راضی نامے کی بنیاد پر یہ درخواست مسترد کردی اور ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیا تھا اور فریقین کے درمیان صلح کے بعد وہ اب اس کیس میں مزید کارروائی نہیں چاہتے۔
پیٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کو بھی دولت اور طاقت کے بل پر قانون سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ان لوگوں کے لیے پیغام ہے جو غریب افراد کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور دولت و طاقت کی بنیاد پر خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور وزیراعلیٰ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں، خواہ ان پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دولت، اثرورسوخ اور سیاسی تعلقات کسی کو قانون کے سامنے جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا تھا کہ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی مظلوم کو صرف اس لیے انصاف کے حصول کی جدوجہد میں تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا کہ اس کے مقابلے میں کوئی بااثر شخص موجود ہے۔