صوبہ سیستان و بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے دو عرب ممالک ہیں: ایران

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں حالیہ بدامنی کے پیچھے دو عرب ملکوں کے واضح آثار موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں جدید آلات اور ماہر اہلکار بھیجنے کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی خبر رساں ادارے ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے فدا حسین مالکی نے دونوں عرب ملکوں کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم کہا کہ سیستان و بلوچستان میں جدید آلات اور ماہر اہلکار بھیجنے کے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سرحدی علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کو محض الگ تھلگ سیکیورٹی واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

حسین مالکی کے مطابق ان واقعات کے سیاسی، سماجی اور علاقائی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، جبکہ اس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی عناصر جنگی حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

ایرانی میڈیا نے 12 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے مہرستان میں دو الگ الگ حملوں کے دوران خواتین کی بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مسلح افراد نے مہرستان میں پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

اس سے قبل 8 اکتوبر کو سیستان و بلوچستان پولیس کمان کے نائب سربراہ برائے ثقافتی و سماجی امور نصرت افتخاری زاہدان میں چشمہ زیارت جانے والے راستے پر سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں اور پولیس چوکیوں سمیت گشت کرنے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles