
پاکستان اور مالدیپ نے دفاع، بحری سلامتی، سائبر سیکیورٹی، آئی ٹی، تعلیم اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے قریبی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیا۔
11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔
طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں میں دفاع اور بحری سلامتی، آئی ٹی، سائبر سیکیورٹی، سماجی بہبود، انسدادِ منشیات، زراعت، ماہی گیری، فنی تربیت اور طبی شعبے میں تعاون شامل ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹیز، سول سروس کمیشنز، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور مالدیپ کی وزارتِ تعلیم کے درمیان بھی تعاون سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کو آئی ٹی کے شعبے میں تکنیکی معاونت اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان یوتھ ایکسچینج پروگرام اور تعلیمی وفود کے تبادلے بھی بڑھائے جائیں گے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل درآمد تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں اور پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔
دونوں رہنماؤں نے مسئلہ فلسطین پر بھی اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا اور ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان میں گرمجوشی سے استقبال اور مہمان نوازی پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی 20 مفاہمتی یادداشتیں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
صدر معیزو نے تعلیم، صحت اور آئی ٹی کے شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بزنس فورم سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے تکنیکی اور فنی شعبوں میں مشترکہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔