وسیم عباس قتل کیس: مفرور ملزم کی تلاش جاری، تفتیش سی سی ڈی کے حوالے


ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کے قتل کیس کی تفتیش کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سپرد کردی گئی ہے، جبکہ محکمہ لیبر نے چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر مرکزی ملزم توقیر اور یتیم خانے کے مالک کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرادیے ہیں۔ واقعے میں ملوث دوسرے ملزم امجد علی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقتول وسیم عباس یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا، جہاں سے اسے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم عمری میں الیکٹریکل کام اور جبری مشقت کے لیے ملزم توقیر کے حوالے کیا گیا تھا۔ یتیم خانے کا مالک پہلے ہی پولیس کی تحویل میں موجود ہے جس سے مزید پرسش کی جا رہی ہے۔ مقدمے چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔
دوسری جانب واقعے میں ملوث دوسرے اہم ملزم امجد علی کی گرفتاری کے لیے پولیس کی مختلف ٹیمیں فیصل آباد سمیت دیگر اضلاع میں چھاپے مار رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق امجد علی کی آخری لوکیشن فیصل آباد میں ٹریس ہوئی تھی، تاہم وہاں کارروائی کے دوران وہ ہاتھ نہیں آ سکا۔ امجد علی مرکزی ملزم کے ساتھ الیکٹریکل ٹھیکیداری کے کام میں حصہ دار تھا اور واقعے کے وقت سے روپوش ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیس کا مرکزی ملزم توقیر نذیر عدالتی ریمانڈ کے دوران فرار ہونے کے بعد ناردرن بائی پاس بہاولپور کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکا ہے۔
علاوہ ازیں نشتر اسپتال ملتان کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تصدیق ہو چکی ہے کہ 19 اکتوبر کو وسیم عباس کی موت سر اور چہرے پر شدید چوٹیں لگنے اور دماغی صدمے کے باعث واقع ہوئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور دوسرے فرار ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے تفتیشی کارروائی جاری ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles