
فرانس میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران لگژری برانڈز کے اسٹورز سے لوٹا گیا قیمتی سامان سوشل میڈیا اور آن لائن مارکیٹ پلیسز پر سستے داموں فروخت ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ لوٹے گئے سامان میں مہنگے ہینڈ بیگز، پرفیومز، کاسمیٹکس اور گھڑیاں شامل ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مارسیلے میں رولیکس کے ایک اسٹور سے تقریباً 30 لاکھ یورو، جبکہ بوردو میں لوئی ویتان کے اسٹور سے 12 لاکھ 50 ہزار یورو مالیت کا سامان لوٹا گیا۔ دونوں واقعات میں مجموعی نقصان کا تخمینہ 42 لاکھ 50 ہزار یورو لگایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوٹا گیا لگژری سامان اصل قیمت سے 90 فیصد تک کم نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے پیرس، مارسیلے اور بوردو سمیت مختلف شہروں میں نقاب پوش گروہوں نے لوئی ویتان، ہرمیس، ڈائر اور رولیکس جیسے معروف برانڈز کے اسٹورز کو نشانہ بنایا تھا۔
View this post on Instagram
سپر مارکیٹس، کپڑوں کی دکانوں اور فارمیسیوں میں بھی لوٹ مار ہوئی، جبکہ سرکاری عمارتوں، گاڑیوں اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، سیکنڈ ہینڈ اشیا کی آن لائن مارکیٹ پلیس ونٹڈ پر بھی لوٹے گئے سامان سے مشابہت رکھنے والی مصنوعات کی فہرستوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان میں لوئی ویتان، سیلین اور ہرمیس جیسے برانڈز کی اشیا شامل تھیں۔
ونٹڈ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوٹ مار سے منسلک فہرستوں کی نشاندہی کرکے انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔
فرانسیسی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ کے مطابق، حالیہ پُرتشدد واقعات سے دو ہزار سے زائد کاروباری ادارے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
یہ احتجاج ابتدا میں تعلیمی نظام میں طلبہ کی زیادہ تعداد، اساتذہ کی کمی اور ناکافی وسائل کے خلاف شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں مہنگائی اور معیارِ زندگی سے متعلق عوامی بے چینی بھی اس میں شامل ہوگئی۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے دکانوں پر امیروں کے خلاف نعرے بھی درج کیے۔