افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا: ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے افزودہ شدہ نیوکلیئر مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی کسی تجویز کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی امریکا کی جانب سے پیشگی اقدامات کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں تہران کے اہم سفارتی دورے پر موجود پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق، اس دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے پاکستانی آرمی چیف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران سے افزودہ نیوکلیئر مواد کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا، کیونکہ یہ مواد ایرانی عوام کے لیے ایک بڑا قومی اثاثہ اور قومی سرمایہ ہے جسے صرف ملک کے اندر استعمال کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتا اور ایران کی جانب سے عائد کردہ شرائط کو پورا نہیں کرتا، اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران تہران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس وقت تک امریکا کا اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران جنگ پسند ملک نہیں ہے لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور کسی قسم کی دھمکیاں یا فوجی مشقیں ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے باعث خود دلدل میں پھنسا ہے، لہذا اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی خود امریکا کی ہی ذمہ داری ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے، جہاں ان کے ساتھ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی موجود ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں پائیدار امن کے قیام اور ایران و امریکا کے مابین پیدا ہونے والے بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے ثالث کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles