میر رضا کیس: اے ایس پی ندا اور اسپیشل سیکریٹری سمیت متعدد اعلیٰ افسران کو کھنگالا جائے: جوڈیشل کمیشن


میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں خودکشی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کو قتل قرار دے دیا۔ کمیشن نے اے ایس پی ندا جنید، اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن سمیت متعدد افسران کے کردار کی تفصیلی تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے بعض پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور شواہد مٹانے میں ممکنہ معاونت کی بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا کی لاش سے مخصوص قسم کے تیزاب کے شواہد ملے، جبکہ ایسے کوئی معاشی مسائل سامنے نہیں آئے جو انہیں خودکشی پر مجبور کر سکتے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیس کو خودکشی کا رنگ دے کر بند کرنے کی کوشش میں پولیس کے بعض عہدے داروں نے غیر جانب داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے۔
کمیشن نے تفتیش کے دوران پولیس کے طرزِ عمل اور حکمتِ عملی کے فقدان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی تنقید کے باعث پولیس نے پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ معاملے کو ہر صورت خودکشی قرار دینا ہے۔
کمیشن نے علی شاز، اے ایس پی ندا جنید، اے ایس پی شاہ زیب میمن اور اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں بھردے برادرز کی سرگرمیوں کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ حقائق چھپا رہے ہیں۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کے تعلقات اور واقعے میں استعمال ہونے والے تیزاب کی دستیابی کے حوالے سے بھی تفصیلی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پولیس افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کمیشن نے ڈی آئی جی عامر فاروقی، ڈی آئی جی لنجار اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ میں ایس ایچ او عدیل افضل، انسپکٹر غیاث اور سب انسپکٹر شبیر لغاری کی کارکردگی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا گیا ہے، جبکہ عدیل افضل اور شبیر لغاری کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف جامع انکوائری شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیشن نے یہ معلوم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے کہ آیا عدیل افضل اور ایس ایچ او کامران قریشی نے شواہد مٹانے میں کوئی معاونت کی تھی۔ اس کے علاوہ اے ایس پی ندا جنید کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے ان کی دوبارہ تربیت کی سفارش کی گئی ہے۔
دوسری جانب، جوڈیشل کمیشن نے بعض پولیس اہلکاروں کی کارکردگی اور ایمانداری کو سراہا ہے۔ رپورٹ میں ہیڈ محرر ذیشان کی کارکردگی کو محکمہ پولیس کے لیے قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے انہیں اور کانسٹیبل محمد عارف کو تعریفی اسناد دینے اور تربیت فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیشن نے اے آئی جی افضل خان کے مثبت کردار کی بھی تعریف کی ہے۔
رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات کے بعد اب صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے نامزد افسران کے خلاف ممکنہ محکمانہ اور قانونی کارروائی کے حوالے سے آئندہ اقدامات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles