
ایک چینی زبان بولنے والے ہیکر نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام (اے آئی ایجنٹس) کے استعمال سے عالمی سطح پر زرعی آلات بنانے والی کمپنی ’ڈیر‘، گھریلو اشیاء بنانے والی ’شارک ننجا‘ اور انجن ساز ادارے ’کمنز‘ سمیت 100 سے زائد معروف کمپنیوں کی ویب سائٹس ہیک کرکے ہلچل مچا دی ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق اس کارروائی میں انسان کا براہِ راست عمل دخل انتہائی معمولی تھا، جبکہ زیادہ تر حملہ خودکار اے آئی نظام کے ذریعے سر انجام دیا گیا۔
سائبر سیکیورٹی فرم ’نار فورج‘ کے پرنسپل تھریٹ ریسرچر سنور فیرگلینڈ کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ہیکرز عام دستیاب اے آئی پرابلم سالونگ پلیٹ فارم ’کیرن‘ (Cairn) کا استعمال کر رہے تھے۔
ماہرین نے اکتوبر کی شروعات سے اس پلیٹ فارم کی نگرانی شروع کی، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ہیکر نے صرف چند ہدایات دے کر اپنے اے آئی ایجنٹس کو خودکار طریقے سے سائبر حملے کرنے کا ہدف سونپا۔
ان اے آئی ایجنٹس نے مختلف ویب سائٹس میں نقائص کی تلاش اور ان میں گھسنے کے لیے مسلسل 23 گھنٹے تک کوششیں کیں اور بالآخر حملے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیکر نے 25 ستمبر سے امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور جاپان کی ای کامرس ویب سائٹس پر اے آئی حملے شروع کیے، اور اب تک 1200 سے زائد ویب سائٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
فیرگلینڈ کے تخمینے کے مطابق چین کے ’ڈیپ سیک‘ اور اینتھروپک کے ’کلاڈ کوڈ‘ کا استعمال کرتے ہوئے اس پوری مہم پر صرف پانچ ہزار ڈالر سے زائد لاگت آئی، جس کا مطلب ہے کہ فی کامیاب ہیکنگ کی اوسط لاگت محض 50 ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹس نے جس طرح ڈیجیٹل ریکارڈز اور کنٹرول پینلز کی باریکیوں سے خامیاں تلاش کر کے سرورز سے نقصان دہ کمانڈز پر عمل کروایا، وہ کسی عام ہیکر کے بس کی بات نہیں ہے۔
یہ پریشان کن صورت حال کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ کمپنیوں میں سے ڈیر نے ضروری حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے حساس معلومات کے محفوظ رہنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شارک ننجا نے بتایا کہ اس کی صرف پروڈکٹ سپورٹ ویب سائٹ متاثر ہوئی تھی جسے فوری طور پر قابو میں کر لیا گیا ہے۔ کمنز کے حکام تھرڈ پارٹی وینڈر کی ویب سائٹ پر ہونے والے سائبر حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کیرن پلیٹ فارم کے ڈویلپر کا کہنا ہے کہ یہ ملٹی ایجنٹ آرکیٹیکچر سائبر حملوں کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا اور اس کا غلط استعمال ان کے مقاصد میں شامل نہیں ہے۔