
مصری پارلیمان کے ایوان زیریں (مجلس النواب) نے سعودی عرب کو دفاعی اور فوجی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے غور کے لیے (آج) اتوار 18 اکتوبر 2026 کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی اس باضابطہ درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے فوجی اقدامات کی اجازت مانگی ہے۔
مصری میڈیا کے مطابق مجلس النواب کا یہ اہم اجلاس قاہرہ میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں صدر السیسی کو عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا اختیار دینے پر غور کیا جائے گا۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے نئی انتظامی دارالحکومت میں واقع ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ریاض نے مصری معاونت کی درخواست کی تو مصر اپنے خلیجی بھائیوں اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
انہوں نے تاکید کی کہ مصر کسی پر حملہ کرنے یا جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کا واحد مقصد سعودی عرب کا دفاع اور خطے کا تحفظ ہے۔
صدر السیسی نے یہ بھی یاد دلایا کہ آئینی طور پر ایسی کسی بھی بیرون ملک فوجی کارروائی یا مداخلت کے لیے پارلیمان کی منظوری لازمی ہے، اسی لیے ہنگامی اجلاس بلانے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور سرحد پار حملوں میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
مصری صدر نے اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا تھا، جس میں انہوں نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب کو لاحق خطرات براہِ راست مصر اور پوری عرب دنیا کی قومی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی صدر السیسی نے 2011 کے بعد درپیش معاشی بحران کے دوران مصر کی مالی و سفارتی مدد کرنے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کا شکریہ بھی ادا کیا۔