یہودی آبادکاروں کا یورپی سفارتکاروں پر حملہ

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے طیبہ میں اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں، فرانس کے ایک میئر اور ایک آرچ بشپ پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے جبکہ بیلجیئم کے سفارتی مشن کی ایک بکتر بند گاڑی کا شیشہ بھی توڑ دیا گیا۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق یہودی آبادکاروں نے سفارت کاروں سے پہلے زیتون کی فصل اتارنے والے فلسطینی کسانوں کو نشانہ بنایا، ایک بزرگ خاتون پر تشدد کیا جبکہ ایک شخص کو شدید زخمی کردیا، جس کے سر پر چھ ٹانکے لگائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز فلسطینی قصبے طیبہ میں پیش آیا، جہاں فرانس کے شہر اولوئے ایریمری کے میئر برنارڈ بودوکس، فرانسیسی قونصل جنرل، ان کی اہلیہ، بیلجیئم اور پولینڈ کے قونصلز سمیت دیگر سفارت کار زیتون کی فصل اتارنے کی سرگرمی میں شریک تھے۔

فرانسیسی میئر برنارڈ بودوکس سفارتی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نقاب پوش حملہ آور نے انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق حملہ کرتے وقت حملہ آور نے فرانس زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

حملہ آوروں کے گروپ میں سات افراد شامل تھے، جن میں سے بعض کے پاس ڈنڈے تھے۔ ان افراد نے فرانسیسی میئر کی اہلیہ اور کمبری کے آرچ بشپ ونسنٹ ڈولمین کو بھی دھمکیاں دیں۔ حملے کے دوران بیلجیئم کے سفارتی مشن کی ایک بکتر بند گاڑی کا شیشہ بھی توڑ دیا گیا۔

بیلجیئم کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ میکسم پریوو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زیتون کی فصل اتارنے، خبریں دینے یا سفارتی فرائض انجام دینے کی وجہ سے کسی کو بھی حملے کا خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی آبادکاروں پر یورپی یونین کی پابندیاں عائد کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اسرائیل سے آبادکاروں کے حملے روکنے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، اس پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ ہم نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے سے پہلے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین کے مطابق 27 ستمبر سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکار 170 سے زیادہ حملے کرچکے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق ان واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں زیتون کے درختوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

طیبہ کے پادری فادر بشار فوادلہ نے کہا کہ سفارت کاروں کی موجودگی میں بھی اس طرح کا تشدد انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کے بقول کسی فلسطینی کو اپنی ہی زمین سے زیتون کی فصل اتارنے کے لیے تشدد کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles