
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کی امریکی شہریت ختم کرانے اور انہیں ملک بدر کرنے کے امکان کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔ الہان عمر کے دفتر نے تحقیقات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آنے والی الہان عمر نے امریکی شہریت کیسے حاصل کی۔ حکام ان کے خاندان کے امیگریشن ریکارڈز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مینیسوٹا میں گرینڈ جیوری کے سامنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے ان کے بعض رشتہ داروں سمیت مختلف افراد کو ایک درجن سے زائد سمن بھی جاری کیے گئے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل وفاقی ایجنٹوں نے الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔ ان کے دفتر نے اس کارروائی کو سیاسی مخالفین کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا تھا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ کارروائی ایک جاری وفاقی تحقیقات کا حصہ تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تلاشی کے دوران ایجنٹوں نے الہان عمر کا پاسپورٹ، موبائل فون، ذاتی کمپیوٹرز اور نوٹ بکس تحویل میں لے لیے۔ پیر کی صبح ان کے گھر کے اطراف کی سڑک بند کی گئی اور وہاں سے ’’ضبط شدہ شواہد‘‘ کے لیبل والے ڈبے لے جائے گئے۔
اخبار کے مطابق شہریت سے متعلق تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا الہان عمر یا ان کے مرحوم والد نے امیگریشن دستاویزات میں ان کی عمر 18 سال کے بجائے 17 سال ظاہر کی تھی۔ حکام اس امکان کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا اس طرح انہیں اپنے والد کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کا موقع ملا، جس کے باعث انہیں الگ سے درخواست دینے کی ضرورت پیش نہ آئی۔
الہان عمر 1995 میں کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں قیام کے بعد امریکا پہنچی تھیں اور 2000 میں امریکی شہری بن گئیں۔ وہ اس سے قبل امیگریشن فراڈ کے الزامات کی تردید کر چکی ہیں۔ ان کے والد کا 2020 میں انتقال ہو گیا تھا، جس کے باعث تحقیقات کے دوران شواہد جمع کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
اخبار کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں بھی ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کے حکام نے اسی نوعیت کے الزام کا جائزہ لیا تھا، تاہم فراڈ کے شواہد نہ ملنے پر کارروائی آگے نہیں بڑھائی گئی۔ اخبار نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ کانگریس کی ایک غیر جانب دار نگران کمیٹی پہلے الہان عمر کے اثاثوں سے متعلق ایسے انکشافات کے معاملے میں انہیں بے قصور قرار دے چکی ہے جن میں ان کے اثاثوں کی مالیت زیادہ ظاہر ہونے کا الزام تھا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ الہان عمر کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کسی عدالتی مقدمے کے دائر ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ تحقیقات شروع ہونے سے خودبخود شہریت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی بنیاد پر انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے؛ اس کے لیے قانونی کارروائی ضروری ہوگی۔
ٹرمپ اور ان کے اتحادی ماضی میں بھی صومالی پس منظر اور امریکا میں آمد سے متعلق معاملات پر الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تاہم گھر کی تلاشی کے چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور یہ معاملہ محکمۂ انصاف کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔