حوثی حملے میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کے ہیڈ کوارٹر کو شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ

سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ آگ لگنے سے عمارت کی کئی منزلیں متاثر ہوئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے براہ راست واقف تین افراد نے بتایا کہ منگل کو سعودی عرب کے شہر ظہران میں واقع آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد عمارت میں آگ پھیل گئی۔

رپورٹ کے مطابق عمارت کے جنوبی حصے کی نویں منزل پر آگ لگی، جو بعد میں چھٹی سے دسویں منزل تک پھیل گئی۔ ایک اور ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ عمارت کی اوپری تین منزلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان منزلوں میں آرامکو کے چیف ایگزیکٹو افسر امین ناصر کا دفتر بھی موجود ہے۔

مزید بتایا گیا کہ عمارت کے بعض حصے کی چھت گر چکی ہیں، جبکہ کھڑکیوں اور دروازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ منگل کی رات ہونے والے حملے کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ لگی تھی۔ وزارت کے بیان اور ذرائع کی جانب سے بتائے گئے نقصان کی تفصیلات میں فرق سامنے آیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حملے کے باوجود مشرقی سعودی عرب میں واقع آرامکو کے اس کمپلیکس میں معمول کے مطابق کام جاری ہے، تاہم دو ذرائع نے بتایا کہ بعض ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ عمارت دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے اہم آپریشنز سینٹر کی میزبانی کرتی ہے، جہاں سے کمپنی کے ساحلی اور سمندر میں موجود تیل نکالنے کے مراکز، ریفائنریز، تیل برآمد کرنے کے مراکز اور ہزاروں کلومیٹر طویل پائپ لائنوں کی نگرانی میں مدد ملتی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے ایران کے اتحادی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے۔

رائٹرز نے آرامکو سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا، تاہم خبر شائع ہونے تک کمپنی کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles