
میررضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کردی گئی ہے، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ جاوید ابڑو نے رپورٹ وصول کرلی۔
تفصیلات کے مطابق عدالتی کمیشن کے عملے نے میررضا جوڈیشل کمیشن کی سربمہر رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کی۔ رپورٹ پانچ لفافوں پر مشتمل ہے، جن میں بیانات کا ریکارڈ موجود ہے۔
کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے سے متعلق فیصلہ سندھ حکومت کرے گی، میر رضا کے اہلخانہ واقعے پر جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ میر رضا کی موت کے کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے 7 اکتوبر کو کارروائی مکمل کر لی تھی۔
جوڈیشل کمیشن نے جائے وقوع کے دورے سمیت مجموعی طور پر 15 اجلاس کیے تھے۔
جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن 24 اگست کو جاری ہوا تھا جبکہ کمیشن نے 27 اگست کو کام کا آغاز کیا تھا۔ محکمۂ داخلہ سندھ نے 1 ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کا کہا تھا۔
سندھ حکومت نے 24 اگست کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا تھا، جسے میر رضا کی موت کے حالات، پولیس اور طبی حکام کی ممکنہ غفلت اور تحقیقات میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کمیشن نے کارروائی کے دوران ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضادات، جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے، سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق سوالات اٹھائے۔ میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ سے بھی ان کی رپورٹ میں موجود اختلافات پر پوچھ گچھ کی گئی جب کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی۔
کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور 8 اکتوبر کو اپنی کارروائی مکمل کرلی۔ رپورٹ کے حوالے سے اہل خانہ کے وکیل نے اسے عام کرنے اور خاندان کو فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی اور اسے عام کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ کریں گے۔
اب جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر کمیشن کی حتمی رپورٹ اہل خانہ کو فراہم کرنے اور وفاقی و صوبائی اداروں پر مشتمل آزاد جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کا مقصد صرف موت کے حالات کا تعین نہیں بلکہ مبینہ قتل میں ملوث افراد، شواہد میں ممکنہ ردوبدل اور تفتیشی کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کرنا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔