
سوشل میڈیا کی دنیا میں بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو سامنے آ جائیں تو پوری کمپنی کو وضاحتیں دینا پڑ جاتی ہیں۔ 2021 میں فیس بک کے اندر سے سامنے آنے والی ہزاروں خفیہ دستاویزات نے بھی ایسا ہی ہلچل مچا دینے والا سوال اٹھایا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم کے ممکنہ نقصانات سے آخر کتنا واقف تھی؟
یہ دستاویزات ایک سابق ملازمہ فرانسس ہاگن نے منظرِعام پر لائی تھیں، جن کے انکشافات نے فیس بک کی پالیسیوں، نوجوانوں کی حفاظت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری پر عالمی بحث چھیڑ دی۔
ان دستاویزات میں فیس بک کی اپنی تحقیق اور جائزے شامل تھے، جن میں پلیٹ فارم کے نوجوانوں، ذہنی صحت، غلط معلومات اور سماجی تقسیم پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے۔
یہی واقعہ بعد میں ’’فیس بک فائلز‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور اب اسی حقیقی داستان کو ہدایت کار ایرن سورکن کی نئی فلم ’’دی سوشل ریکننگ‘‘ میں پیش کیا جا رہا ہے، جو 9 اکتوبر کو دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی ہے۔
فرانسس ہاگن ٹیکنالوجی کی دنیا سے باہر کی شخصیت نہیں تھیں۔ وہ ڈیٹا سائنسدان اور پروڈکٹ مینیجر کے طور پر گوگل، ییلپ اور پنٹرسٹ میں کام کر چکی تھیں۔ 2019 میں فیس بک سے وابستہ ہونے کے بعد وہ کمپنی کی سِوک انٹیگریٹی ٹیم کا حصہ بنیں، جہاں انتخابات، غلط معلومات اور آن لائن پلیٹ فارمز کے عوامی گفتگو پر اثرات جیسے حساس معاملات پر کام کیا جاتا تھا۔
ہاگن کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ان کے خدشات بڑھتے گئے۔ ان کے مطابق کمپنی کو اس ممکنہ نقصان کا علم تھا جو اس کے پلیٹ فارمز صارفین کو پہنچا سکتے ہیں، لیکن ایسے اقدامات جن سے صارفین کی سرگرمی یا کاروباری ترقی متاثر ہو سکتی تھی، ان پر عمل درآمد ایک مشکل معاملہ بن گیا تھا۔
2020 کے امریکی صدارتی انتخابات اور جنوری 2021 میں امریکی کیپیٹل پر حملے کے بعد یہ معاملہ مزید اہم ہوگیا۔ فیس بک نے انتخابات کے دوران بعض حفاظتی اقدامات کیے تھے، تاہم بعد میں ان میں سے کچھ کو کم کردیا گیا۔ ہاگن نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے وقت میں حفاظتی اقدامات کم کیے گئے جب غلط معلومات کے ممکنہ نتائج زیادہ واضح ہو رہے تھے۔
ہاگن نے مئی 2021 میں فیس بک چھوڑ دیا، لیکن جانے سے پہلے کمپنی کی اندرونی دستاویزات کی بڑی تعداد اپنے پاس محفوظ کرلی۔
ان دستاویزات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ ان میں صرف ہاگن کی ذاتی رائے شامل نہیں تھی بلکہ فیس بک کے اپنے محققین کی تحقیق بھی موجود تھی۔ ان میں انسٹاگرام کے نوجوان صارفین پر اثرات سے متعلق مطالعات خاص طور پر توجہ کا مرکز بنے۔
ایک اندرونی تحقیق میں بتایا گیا کہ انسٹاگرام بعض نوجوانوں میں جسمانی شکل و صورت سے متعلق منفی احساسات کو بڑھا سکتا ہے۔ ایک مطالعے میں شامل 32 فیصد نوعمر لڑکیوں نے کہا کہ انسٹاگرام استعمال کرنے سے انہیں اپنے جسم کے بارے میں مزید برا محسوس ہوا۔
دیگر دستاویزات میں سوشل میڈیا کے استعمال اور بے چینی، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات کے درمیان ممکنہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔
دستاویزات میں فیس بک کے الگورتھم میں 2018 کی ایک تبدیلی بھی زیر بحث آئی۔ اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے درمیان زیادہ بامعنی رابطے کو فروغ دینا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں غصے اور تقسیم پیدا کرنے والے مواد کو بھی زیادہ پھیلنے کا موقع مل سکتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ایسا مواد صارفین کی زیادہ توجہ حاصل کرتا، اس پر زیادہ ردعمل آتا اور اسے زیادہ شیئر کیا جاتا تھا۔
اندرونی مواد میں ایکس چیک نامی نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے بارے میں رپورٹ کیا گیا کہ بعض معروف صارفین کو عام اکاؤنٹس کے مقابلے میں مختلف طریقے سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں نفرت انگیز مواد اور تشدد پر مبنی مواد کی نگرانی کے حوالے سے بھی خدشات موجود تھے۔
ہاگن کے مطابق سِوک انٹیگریٹی ٹیم کا خاتمہ بھی اس بات کی مثال تھا کہ ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں صارفین کی حفاظت اور کاروباری ترجیحات کے درمیان کس طرح کشمکش پیدا ہوسکتی ہے۔
ابتدائی طور پر ہاگن نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے یہ دستاویزات وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی جیف ہوروٹز کو فراہم کیں، جن کی رپورٹنگ کے نتیجے میں ستمبر 2021 سے ’’فیس بک فائلز‘‘ سامنے آنا شروع ہوئیں۔
3 اکتوبر 2021 کو ہاگن نے امریکی پروگرام ’’60 منٹس‘‘ میں اپنی شناخت ظاہر کی، جبکہ دو دن بعد انہوں نے امریکی سینیٹ کے سامنے بھی بیان دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ فیس بک کو معلوم تھا کہ اس کی مصنوعات بچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، معاشرتی تقسیم میں اضافہ کرسکتی ہیں اور جمہوری عمل کو متاثر کرسکتی ہیں، لیکن کمپنی نے ان خدشات سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔
فیس بک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات کو مخصوص انداز میں پیش کیا گیا اور ہاگن بعض نتائج اخذ کرنے کی اہل نہیں تھیں۔ کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ نے بھی اس تاثر کو رد کیا کہ فیس بک جان بوجھ کر منافع کو صارفین کی حفاظت پر ترجیح دیتی ہے۔ کمپنی نے اپنی جانب سے سیفٹی، نگرانی اور مواد کی جانچ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا حوالہ بھی دیا۔
تاہم فیس بک فائلز سامنے آنے کے بعد معاملہ کمپنی کی حدود تک محدود نہیں رہا۔ امریکا سمیت مختلف ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اثرات، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر ان کے ممکنہ اثرات، کے حوالے سے قانونی اور انتظامی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا۔
اسی پس منظر کو ’’دی سوشل ریکننگ‘‘ میں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں فرانسس ہاگن کا کردار مائیکی میڈیسن ادا کر رہی ہیں، جبکہ جیف ہوروٹز کا کردار جیریمی ایلن وائٹ اور مارک زکربرگ کا کردار جیریمی اسٹرانگ ادا کر رہے ہیں۔
حقیقی واقعے کی اہمیت فلم سے کہیں آگے ہے۔ ہاگن کے سامنے لائے گئے مواد نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ٹیکنالوجی کمپنی اپنے پلیٹ فارم سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات سے آگاہ ہو تو اس کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔
پانچ سال بعد فیس بک اب میٹا کا حصہ ہے اور سوشل میڈیا پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوچکا ہے، لیکن ہاگن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب بھی زیر بحث ہیں۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ جب صارفین کی زیادہ سے زیادہ مصروفیت کسی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے کاروباری ماڈل کا حصہ بن جائے تو اس مصروفیت کے ممکنہ اثرات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔